Al-Risala · December 2019 · page 4

خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۴

اللہ کی معرفت ر ق ہے ۔ معرفت دین کا آغاز ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایسا ہی ہے، جیسے مغز کے بغیر پھل۔ اللہ کی معرفت بلاشبہ سب سے زیادہ آسان کام ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معرفت کا حصول بلاشبہ دین میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ معرفت کے مشکل ہونے کا سبب یہ ہے کہ معرفت اگر چہ اللہ رب العالمین کی معرفت کا نام ہے۔ لیکن معرفت پورے معنی میں ادراک کا نتیجہ ہوتی ہے۔ معرفت اپنی حقیقت کے اعتبار سے سیلف ڈسکورڈ (self discovered) حقیقت کا ارڈؔ)۔ صرف اپنی ہی عبارت سے نام ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی عارف نے کہا ہے :

خود کوزه و خود کوزه گر و خود گل کوزه

یعنی وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معرفت کے حصول میں آدمی کو خود اپنا حج بننا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ اصلاُ اللہ کی معرفت کا نام ہے۔ لیکن اس معرفت کا آغاز خود اپنی ذات کی معرفت سے ہوتا ہے۔ کسی عارف نے درست طور پر کہا ہے : مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه (حلیۃ الاولیاء، جلد 10، صفحہ 208)۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو جان لیا، اس نے اپنے رب کو جان لیا۔ حدیث میں آیا ہے : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی ذات کے عارف بنو، اپنے خالق کے عارف بن جاؤ گے۔

اللہ کی معرفت کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ حقیقت شناس (realist) بنائے۔ وہ اپنے آپ کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بنائے ۔ وہ یہ جانے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے، اور وہ صرف عاجزِ مطلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کی سطح پر پہنچائے، تب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی معرفت حاصل ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page