اعتراف خطا
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۶
اعتراف خطا
توبہ کیا ہے۔ توبہ کا مطلب ہے غلطی کرنے کے بعد دوبارہ حق کی طرف واپس لوٹنا۔ ایک شخص اگر نیک عمل پر قائم ہو، تو یہ بلاشبہ ایک ثواب کی بات ہے۔ لیکن اگر ایک شخص سچائی پر قائم ہو، اور پھر اس کے اندر ڈی ریلمنٹ (derailment) ہو، وہ بھٹک کر غلط راستے پر چلا جائے، اور پھر دوبارہ صحیح راستے کی طرف لوٹے تو یہ اور بھی زیادہ بڑا عمل ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے :
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ، تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضِ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ، وَعَلَيْهَا لَهُ طَعَامٌ وَشَرَابٌ، فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا، فَوَجَدَهَا مُتَعَلَّقَةً بِهِ؟ قُلْنَا: شَدِيدًا، يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَاللهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ، مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2746)۔ یعنی براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اس آدمی کی خوشی کے بارے میں کیا کہوگے، جس سے اس کی سواری ریگستان میں نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی بھاگ جائے، اور وہاں اس کے لیے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو، اور اس سواری پر اس کا کھانا پینا بھی ہو، اور وہ اسے تلاش کرتے کرتے تھک جائے، پھر وہ سواری ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے، جس سے اس کی لگام اٹک جائے، اور اس آدمی کو وہاں اٹکی ہوئی مل جائے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول اس کو بہت زیادہ خوشی ہوگی، رسول اللہ نے کہا: خدا کی قسم، اللہ اپنے بندے کی تو بہ سے اس آدمی کی سواری مل جانے کی خوشی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔
اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی طرف واپسی آدمی کو ڈبل ثواب کا مستحق بناتی ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرنے کا عمل کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو ایک ثواب کا مستحق بناتا ہے، اس
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues