مضاہاۃ اغیار
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴
مضاہاۃ اغیار
امت کے زوال کے زمانے میں جو باتیں پیش آتی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبہ، 9:30) کہا گیا ہے۔ مضاہاۃ کا مطلب مشابہت کرنا (to imitate) ہے۔ یہ ظاہر ہ ہمیشہ غالب قوم کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ یعنی مرعوبیت کی نفسیات کے تحت کسی قوم کے کلچر یا اس کے طریق فکر کا پیرو بننا۔ اس مضاہاۃ کی کوئی واحد متعین صورت نہیں۔ ہر زمانے میں اپنے دور کے لحاظ سے اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔
مثلاً موجودہ زمانے میں جدید تہذیب کے ظہور کے بعد ترقی یافتہ قوموں کے درمیان ایک فکر پیدا ہوئی ہے، جس کو انسانی تکریم (human dignity) کہا جاتا ہے۔ یہ تصور آزادی کے معاملے میں انتہا پسندی (extremism) کے نتیجے میں آیا ہے۔ آج کے انسان کا یہ کہنا ہے کہ وہ کامل طور پر آزاد ہے۔ اس کی مشابہت میں مسلمان بھی اسی قسم کی بولی بولنے لگے ہیں۔ مگر اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام کا اصول تمام تر دعوت الی اللہ پر مبنی اصول ہے۔ اسلام کا واحد کنسرن یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے مواقع کھلے رہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ موقع ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ رب العالمین کی طرف بلاتے رہیں۔ اگر اہل اسلام کے لیے دعوت الی اللہ کے مواقع موجود ہوں، تو کسی اور سیاسی یا غیر سیاسی تقاضے کو لے کر مطالبے کی تحریک چلانا، اہل ایمان کے لیے جائز نہیں۔
ان کے لیے موقع ہو کہ وہ دعوت کا کام کر سکتے ہیں، تو ان کے لیے علاحدہ مسلم لینڈ کے نام سے کوئی تحریک چلانا درست نہیں۔ اگر مسلمان ایسا کریں، تو ان کو اللہ کی مدد حاصل نہ ہوگی، اور جب اللہ کی مدد حاصل نہ ہوگی، تو وہ کبھی اپنے مطالبے میں کامیاب نہیں ہوں گے ۔ اہل ایمان پر اللہ کی مدد ضرور آتی ہے، لیکن اللہ کی مقرر کردہ صراط مستقیم پر، نہ کہ کسی اور چیز پر۔ اس دنیا میں اہل ایمان کی صرف ذمے داریاں ہی ذمے داریاں ہیں، ان کا کوئی حق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues