Al-Risala · December 2019 · page 18

اسلامی طرزِ فکر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

اسلامی طرزِ فکر

زندگی ہر ایک کے لیے مسائل کا مجموعہ ہے۔ زندگی کبھی مسائل سے خالی نہیں ہوسکتی۔ کسی انسان کے لیے یہاں تک کہ پیغمبر کے لیے بھی یہ آپشن (option) نہیں ہے کہ پہلے زندگی کو بے مسئلہ زندگی بناؤ، اس کے بعد اپنا کام کرو۔ اس دنیا میں ہر ایک کے لیے ایک ہی آپشن ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسائل میں سلیکٹیو (selective) انداز اختیار کرے، یعنی کچھ مسائل کو انتظار کے خانے میں ڈالے، اور کچھ مسائل کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے۔

اسلام کی تعلیم کے مطابق، اس معاملے میں ایک سچے مسلم کے لیے صرف ایک آپشن ہے۔ وہ یہ کہ ایک مسلم دعوت الی اللہ کو اپنا کنسرن (concern) بنائے، اور دوسری تمام چیزوں کو اللہ رب العالمین کے حوالے کردے۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس معاملے میں کوئی عذر (excuse) حقیقی عذر (genuine excuse) نہیں۔

عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں دعوت الی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کو اپنا کنسرن بناتے ہیں، اور عذر (excuse) کے طور پر کسی دنیوی اصول کا حوالہ دیتے ہیں۔ مثلاً حقِ خود ارادیت (self determination)، انسانی حقوق (human rights)، وغیرہ۔ مگر یہ تمام حوالے درست نہیں۔ ان معاملات میں اسلام کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے : أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّکُمُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ ادا کرو ان کو ان کا حق، اور مانگو اپنا حق اللہ سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں مومن کی منصوبہ بندی یک طرفہ طور پر ذاتی ذمے داری کے اصول پر ہے، دوسروں سے حقوق طلبی کے اصول پر نہیں۔ اس دنیا میں مومن کو صرف اپنی ذمے داری کی ادائیگی پر دھیان دینا ہے، مومن کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی غیر اسلامی اصول کا حوالہ دے کر دوسروں سے اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کردے۔ اس معاملے میں مومن کا طریقہ تمام تر آخرت رخی (Akhirah oriented) ہے، نہ کہ دنیا رخی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page