Al-Risala · December 2019 · page 24

قتال کا معاملہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۹، صفحہ ۲۴

قتال کا معاملہ

قرآن میں ایک آیت اس طرح آئی ہے: اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَانَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (61:4)- یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ یہ آیت مطلق معنی میں قتال کی فضیلت نہیں بتاتی۔ بلکہ وقتی ضرورت کے تحت پیش آنے والے حالات کو بیان کرتی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قتال (لڑائی) ابدی طور پر اللہ کے نزدیک ایک محبوب فعل ہے۔ بلکہ اس میں وقت کے ایک تقاضے کا ذکر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آیت کے نزول کے وقت جب کہ ختم فتنہ کے لیے دفاعی طور پر جنگ ہو رہی تھی، اس وقت سب سے زیادہ مطلوب فعل یہ تھا کہ جنگ کے محاذ پر اہل ایمان کی صفوں کو تقویت دینے کے لیے مخالف طاقتوں سے جنگ کی جائے۔ تا کہ تاریخ کا منصوبہ مکمل ہو، اور دنیا میں دعوت کا وہ پرامن دور آئے، جو کہ فطرت کے نظام کے مطابق، خالق فطرت کو مطلوب ہے۔

متحد ہو کر لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ چوں کہ فتنہ پسند طاقتوں نے متحد طاقت کے ذریعے ناقابل تقسیم طاقت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس لیے اس متحدہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے جوابی اتحاد کی ضرورت ہے، ورنہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یہاں فتنہ سے مراد مذہبی جبر ( religious persecution) کا فتنہ ہے۔ اب یہ فتنہ (religious persecution) عملاً ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے اس کے خلاف متحدہ جنگ کی ضرورت بھی عملاً باقی نہیں رہی۔

موجودہ دور امن کا دور ہے۔ اس دور کو قرآن کی ایک اور آیت کے مطالعے سے زیادہ واضح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (8:61) ۔ یعنی اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2019 All issues

Printed page