Al-Risala · February 2019 · page 12

دعوت کے نئے امکانات

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۲

دعوت کے نئے امکانات

سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے ایک ممبر مسٹر رجت ملہوترا 7 مارچ 2008 کو اپنی کمپنی کے کسی کام سے دہلی سے ممبئی گئے۔ ان کا یہ سفر کنگ فشر (Kingfisher) ائرلائنس کے ذریعے ہوا۔ نئی دہلی کے ائر پورٹ پر جب وہ جہاز کے اندر داخل ہوئے، تو انھوں نے دیکھا کہ فرسٹ کلاس کی اگلی سیٹ پر ایک ہندو لیڈی بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ہوائی پرواز (civil aviation) کے منسٹر ہیں۔ اُس وقت مسٹر رجت ملہوترا کی جیب میں ہمارے یہاں کا انگریزی میں چھپا ہوا پمفلٹ (The Reality of Life) موجود تھا۔ انھوں نے منسٹر صاحب کو ایک پمفلٹ یہ کہتے ہوئے پیش کیا: Sir, this is for your inflight reading. منسٹر صاحب نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پمفلٹ کو لے لیا اور اُسی وقت اس کو پڑھنا شروع کر دیا۔ مسٹر رجت ملہوترا نے جب یہ واقعہ مجھے بتایا، تو میں نے یہ سمجھا کہ موجودہ زمانے کے دعوتی امکانات میں سے ایک امکان یہ بھی ہے کہ حاکم (ruler) اور محکوم (ruled) دونوں ایک سواری پر سفر کریں، اور محکوم کسی قسم کے درباری رسوم ادا کیے بغیر حا کم کو بے تکلف ایک خوب صورت چھپا ہوا دعوتی پمفلٹ پیش کر سکے۔

جب پہلی وحی اتری، تو اُس میں یہ کہا گیا تھا: اَلَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (96:4) ۔ یعنی جس نے قلم سے علم سکھایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی دعوت ایک مبنی بر لٹریچر (literature-based) دعوت ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ پرنٹنگ پریس وجود میں نہیں آیا تھا، یہ دعوتی لٹریچر لوگوں کے حافظے میں ہوتا تھا۔ آدمی کا حافظہ ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اس پوزیشن میں ہوتا تھا کہ اپنے حافظے کی مدد سے لوگوں کو دعوتی پیغام دے سکے۔ اب پرنٹنگ پریس کے زمانے میں یہ کرنا ہے کہ داعی ہر وقت اپنے پاس چھپا ہوا دعوتی لٹریچر رکھے، تاکہ ملاقاتوں کے دوران اُسے لوگوں کو دے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page