فریم ورک کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۰
فریم ورک کا مسئلہ
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مصنف کی کتاب ہے جس کا نام ہے:
A Modern Appraoch to Islam by Dr A A Faizi (1899-1981)
میں نے اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھا ہے۔ اس پر ایک تبصرہ بھی لکھا ہے۔ میرے مطالعہ کے مطابق، اس کتاب میں مسئلہ کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کا اصل مسئلہ ماڈرن اپروچ کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ سائنٹفک انقلاب کے بعد اسلوب کے اعتبار سے فریم ورک (framework) بدل گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اسلام کی دعوت کو جدید فریم ورک کے اعتبار سے پیش کیا جائے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ادبی اسلوب ایک متروک اسلوب بن چکا ہے۔ اب دنیا میں سائنٹفک اسلوب کا رواج ہے۔ تبدیلی اسلوب کے سلسلہ میں تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حسب ذیل کتاب:
The Great Intellectual Revolution by John Frederick West (J. Murray, 1965, pp.132)
اس کتاب کا ایک چیپٹر ہے: تمثیلی اسلوب کا خاتمہ (The Death of Metaphor)۔ یہ چیپٹر اس موضوع پر بحث کرتا ہے۔ تمثیلی اسلوب (metaphor) میں ادبی اسلوب بھی شامل ہے۔ یہاں اس اسلوب کی ایک مثال درج کی جاتی ہے۔ ایک معروف مسلمان عالم نے اپنی سیرت کی کتاب کے دیباچہ میں یہ بتایا ہے کہ اسلام عرب میں کیوں آیا۔ اس میں وہ لکھتے ہیں: معمورة عالم کے صفحے نقشہائے باطل سے ڈھک چکے تھے۔ اب ایک سادہ، بے رنگ، ہر قسم کے نقش ونگار سے معرا ورق درکار تھا، جس پر طغرائے حق لکھا جائے۔
یہ ادبی اسلوب کی مثال تھی۔ اب ماڈرن سائنٹفک فریم ورک کے اعتبار سے یہ کہا جائے گا کہ یہ پوری عبارت ادبی اسلوب میں ہے۔ اس سے متعین (specific) انداز میں معلوم نہیں ہوتا کہ جو واقعہ ہوا، وہ کیا تھا۔ اس کے برعکس، اس واقعہ کو سائنٹفک اسلوب میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues