Al-Risala · March 2020 · page 21

فاجر کے ذریعے تائید دین

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۱

ایک تجربہ

آج دسمبر 2019 کی 3 تاریخ ہے۔ اس وقت میں نظام الدین ویسٹ میں ایک پارک میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا ہوں۔ دھوپ نکلی ہوئی ہے، اور موسم نہایت خوشگوار ہے۔ یہاں پارک میں بیٹھ کر میں نے مولانا عبد السلام عمری (حیدرآباد) سے موبائل پر گفتگو کی ۔ گفتگو کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں نے پہلی بار حیدر آباد کا سفر غالباً 1948 میں کیا تھا۔ اس وقت میں ٹرین کا سفر کر کے حیدر آباد پہنچا تھا۔ اس زمانے میں دلی سے حیدر آباد کا کمیونی کیشن بہت محدودمعنوں میں ہو سکتا تھا۔ اب اللہ کے فضل سے کمپیوٹر آنج آچکا ہے، اور یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بہ آسانی رابطہ قائم کیا جا سکے ۔

1925 میں جب میں پیدا ہوا، اس وقت دنیا میں برٹش ایمپائر موجود تھا۔ یہ ایک پولٹکل ایمپائر تھا۔ اس وقت ایمپائر قائم کرنے کی صرف ایک صورت تھی، اور وہ یہ کہ صاحب ایمپائر کے پاس فوج کی طاقت موجود ہو۔ مگر آج فوج کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج کی دنیا میں اقوام متحدہ (UNO) کا نظام ہر ایک کو عالمی سطح پر مکمل امن دے رہا ہے۔ اگر آدمی خود سے اپنی کسی غلطی کی بنا پر اس امن کو درہم برہم نہ کرے، تو وہ پائے گا کہ ساری دنیا اس کی اپنی دنیا ہے۔ ساری دنیا اس کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے۔

اب ہر پر امن انسان کے لیے وہ عالمی دور آ چکا ہے، جس کی پیشین گوئی پیغمبر اسلام نے ان الفاظ میں کی تھی: لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔ میں اس وقت اپنے ساتھی کے ساتھ نظام الدین ویسٹ کے پارک میں بیٹھا ہوں، ہمارے پاس لیپ ٹاپ اور موبائل فون انٹرنیٹ کے ساتھ موجود ہے ۔ پوٹینشلی (potentially) ہم ساری دنیا سے مکمل طور پر مربوط ہیں۔ کیسی عجیب ہے، اللہ کی یہ نعمت، وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (40:57)۔ یعنی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page