Al-Risala · March 2020 · page 42

فریم ورک کا مسئلہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۴۲

اسلام کے ظہور کا معاملہ دو فیزز (phases) سے تعلق رکھتا ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو اس صحرائی مقام پر بسایا جہاں اب مکہ واقع ہے۔ یہ گویا ڈزرٹ تھرپی ( desert therapy) کا معاملہ تھا۔ اس صحرائی ماحول میں دوہزار سالہ توالد و تناسل کے ذریعہ ایک نسل بنو اسماعیل تیار ہوئی، جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ یہ ڈی کنڈیشنڈ قوم ( deconditioned nation) بڑی حد تک اپنی فطرت پر قائم تھی۔ اس ڈی کنڈیشنڈ نسل میں پیغمبر اسلام نے اپنا مشن شروع کیا۔ پیغمبر ابراہیم نے اس مشن کو باعتبار تربیت شروع کیا، اور پیغمبر اسلام نے اس مشن کو عملی اعتبار سے تکمیل تک پہنچایا۔

مذکورہ عالم دین نے عرب قوم کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ ایک ادبی اسلوب تھا، اور ادبی اسلوب جدید فریم ورک کے خلاف ہے۔ اس کے برعکس، اوپر جو لکھا گیا، وہ جدید فریم ورک کے اسلوب کی مثال ہے۔ ہمارے مصنفین کی کتابوں میں اصل کمی یہی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، ان میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں ہے، جو جدید فریم ورک کے مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتابیں عصری ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں۔ ان کتابوں میں عصری ذہن کو کوئی ٹھیک اوے (takeaway) نہیں ملتا۔ اور جب پڑھنے والے کو ٹھیک اوے نہ ملے تو ایسی تحریروں کو پڑھنا، اور نہ پڑھنا برابر ہو جاتا ہے۔ مسلم مصنفین کی جو کتابیں ہمارے کتب خانے میں موجود ہیں، ان کا بڑا حصہ اسی قسم کا ہے جو جدید علمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

اعلان

سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی، مولانا وحید الدین خاں صاحب کے ہندی مضامین کو اکٹھا کر رہی ہے۔ جن لوگوں کے پاس مولانا وحید الدین خاں صاحب کے پرانے ہندی مضامین موجود ہوں، وہ رابطہ قائم کریں:

فون نمبر 999994119 ای میل: info@cpsglobal.org

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page