Al-Risala · March 2020 · page 50

ملت کا احیا

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰

ملت کا احیا

ملت کی بعد کی نسلوں میں قانونِ فطرت کے مطابق، زوال آتا ہے۔ زوال آنے کے بعد ملت کے اندر احیائے نو کا کام کس طرح کیا جائے، اس کا طریقہ قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو (الحدید، 57:17)۔

یہاں ایک فطری تمثیل کے ذریعے ملت کے احیائے نو کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق زمین پر دو موسم آتے ہیں، سوکھے کا موسم اور بارش کا موسم۔ سوکھے کے موسم میں کھیت سوکھ جاتے ہیں، کھیت کی ہریالی باقی نہیں رہتی۔ اس وقت کسان یہ کرتا ہے کہ بارش کا موسم آتے ہی وہ دوبارہ پانی اور کھاد کو استعمال کرکے اپنے کھیت کو تیار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ سوکھی زمین دوبارہ ہری بھری زمین بن گئی۔

فطرت کی یہ مثال بتاتی ہے کہ ملت کے رہنماؤں کو ملت کے احیائے نو کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ وہ ایسا نہ کریں کہ سوکھی زمین کو کسی دشمن کی سازش کا نتیجہ بتا کر احتجاج کی تحریک شروع کر دیں۔ بلکہ وہ کسان کی طرح یہ کریں کہ ملت کی زمین کو فرد کی سطح پر دوبارہ ہموار کریں، اور ملت کے پودے، یعنی ہر ہر فرد کی فکری اعتبار سے تعمیر کریں۔

وہ زراعت کے اصول کو ملت کے معاملے میں اپلائی (apply) کرتے ہوئے، ملت کو دوبارہ شاداب بنائیں۔ جس طرح کسان کی محنت مبنی بر پودا ہوتی ہے، اسی طرح ملت کے رہنماؤں کی ساری محنت مبنی بر افراد ہونی چاہیے۔ ملت کا زوال دراصل افراد کے زوال کا نام ہے۔ ایسا وقت آنے پر ملت کے رہنماؤں کو یہ کرنا ہے کہ وہ افراد کی تعمیر کا کام کرنے کی کوشش کریں۔ اسی سے ملت کو دوبارہ زندگی ملے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ملت کے احیا کا کام افراد کے احیا سے شروع ہوتا ہے۔ افراد کے اندر اسپرٹ کو زندہ کرنے کے بعد ملت اپنے آپ زندہ ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page