Al-Risala · April 2020 · page 17

اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۷

طرف رواں ہو جاتا ہے۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے اپنا راستہ بنائے ۔ نہ کہ وہ رکاوٹ سے ٹکراؤ شروع کر دے۔

درخت انسان کے لیے آکسیجن نکالتا ہے، اور ہوا اس کو لے کر اُسے انسان تک پہنچاتی ہے۔ لیکن درخت اور ہوا اپنے اس عمل کے لیے انسان سے اس کی کوئی قیمت نہیں مانگتے۔ ایسا ہی انسان کو کرنا چاہیے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، اور اپنے اس عمل کے لیے لوگوں سے کسی قیمت کا تقاضا نہ کرے۔

گائے خدا کی ایک زندہ انڈسٹری ہے۔ گائے کو اس کا مالک گھاس کھلاتا ہے، لیکن گائے اس کے بدلے میں اپنے مالک کو دودھ لوٹاتی ہے۔ وہ دوسروں سے غیر دودھ (non-milk) کو لیتی ہے، اور پھر ان کو اپنی طرف سے دودھ (milk) کا تحفہ واپس کرتی ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ جب بھی اس کو کسی سے منفی تجربہ ہو، تو اس کے جواب میں وہ اس کے ساتھ مثبت سلوک کی روش اختیار کرے۔

کسی مقام پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہوں، اور وہ زمین پر پڑے ہوئے دانے چگ کر خوش خوش اس کو کھارہی ہوں۔ ایسی حالت میں آپ ان کی طرف ایک کنکر پھینک دیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ چڑیاں اُڑ کر درخت کی شاخ پر پہنچ گئیں، اور دوبارہ وہاں چہچہانے لگیں۔ نفرت اور شکایت جیسی چیز کسی چڑیا کے دل میں کبھی جگہ نہیں پاتی۔ یہی طریقہ انسان کا ہونا چاہیے۔ انسان کو بھی ایسا بننا چاہیے کہ جب کوئی شخص اس کو ستائے، یا اس کو کوئی نقصان پہنچائے، تو وہ نفرت اور شکایت کو اپنے دل میں جگہ نہ دے۔ وہ منفی حالات کے باوجو د اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھے۔ دنیا کی تمام چیزیں قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کی حامل ہیں۔ اس مادی دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس معاملے میں استثنا کی حیثیت رکھتی ہو۔ مثلاً ستارے ہمیشہ اپنی مقرر رفتار پر پوری حتمیت کے ساتھ قائم رہتے ہیں۔ ببول کے بیج سے ہمیشہ ببول کا درخت نکلتا ہے، اور انگور کے بیج سے ہمیشہ انگور کا درخت، وغیرہ۔ یہی کردار انسان کا بھی ہونا چاہیے۔ انسان

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page