الفاظ کا جنگل
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۴۷
الفاظ کا نتیجہ ۔ تخلیقی فکر کا مالک کون ہے، یہ وہ انسان ہے، جو آخری حد تک کھلا ذہن (open mind) رکھتا ہو، جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر خالص موضوعی (objective) انداز میں رائے قائم کر سکتا ہو۔ فارسی کا ایک مثل ہے: یک من علم را، دہ من عقل می باید۔ یعنی ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہیے۔ یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ آدمی بولنے سے زیادہ سوچے، وہ بولنے سے زیادہ تجزیہ (analysis) کرے۔ وہ ظاہری اہمیت کی چیزوں سے اوپر اٹھ کر معنوی اہمیت کی چیزوں میں گم ہوجائے۔ اس کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو۔ وہ تعصب سے دور ہو۔ اس کا ذہن نفرت اور انتقام کے جذبات سے خالی ہو۔ وہ غیر متاثر انداز میں واقعات کا تجزیہ کرے۔ وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔
تخلیقی فکر فطرت کا عطیہ ہے۔ تخلیقی فکر ایک خدا داد صلاحیت ہے۔ تخلیقی انسان کے اندر وہ صفت ہوتی ہے، جس کو حدیث میں دعا کی شکل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقّاً، وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً، وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، وَلَا تَجْعَلْهُ مُلْتَبِساً عَلَيْنَا فَنَضِلَّ (تفسیر ابن کثیر، 1/427)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے او پر غیر واضح نہ بنا کہ ہم گمراہ ہوجائیں۔ اسی طرح یہ دعا: اللَّهُمَّ أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَاهِي (تفسیر الرازی، جلد 13 ، صفحہ 37)۔ یعنی اے اللہ، مجھے چیزوں کو اسی طرح دکھا، جیسا کہ وہ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ذہنی ارتقا کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تخلیقی فکر پیدا ہوجائے۔ ایسا آدمی ہر لمحہ اپنے لیے انٹلیکچول فوڈ حاصل کرتا رہتا ہے۔ اس کی ذہنی زندگی کبھی اور کسی حال میں ختم نہیں ہوتی۔ جو لوگ صرف تکرار الفاظ کو جانتے ہوں، وہ الفاظ کا جنگل اگا سکتے ہیں، لیکن معانی کا باغ وجود میں نہیں لاسکتے۔ الفاظ کا جنگل اگانے کے لیے حافظہ (memory) کافی ہے۔ اگر کسی کا حافظہ اچھا ہو، تو وہ بہ آسانی الفاظ کا جنگل اگا سکتا ہے۔ لیکن معانی کا باغ اگانا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ معانی کا باغ صرف وہ لوگ اگا سکتے ہیں، جو تخلیقی فکر کے حامل ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues