Al-Risala · August 2020 · page 12

بے خدا زندگی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۱۲

بے خدا زندگی

خدا رخی زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہو جائے۔ وہ خدا کی یاد کے ساتھ سوئے، اور خدا کی یاد کے ساتھ جاگے ۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا والا بن کر رہے۔ دنیا کی ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے۔ اس کے مقابلے میں بے خدا زندگی یہ ہے کہ آدمی پیدا ہو کر اس دنیا میں آگیا۔ لیکن اس نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے خالق کو دریافت کرے ۔ وہ اپنے آج میں مشغول رہے، مگر وہ اس حقیقت کو دریافت نہ کرے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔

میرا تجربہ ہے کہ اگر لوگوں سے مسلم ایمپاورمنٹ کی بات کی جائے، تو ہر آدمی شوق سے سنے گا۔ بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے گی۔ ہر آدمی چاہے گا کہ وہ مسلم ایمپاورمنٹ کی کوشش میں اپنا حصہ ادا کرے۔ اس کے برعکس، اگر خدا اور آخرت کی بات کی جائے، تو اچانک محسوس ہوگا کہ لوگوں کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ لوگ اس کو اس طرح لینے لگیں ہیں، جیسے کہ وہ کوئی غیر متعلق بات ہے۔ مسلم ایمپاورمنٹ کی بات لوگ اس طرح سنیں گے، جیسے کہ وہ ان کی اپنی بات ہو۔ اس کے برعکس، خدا اور آخرت کی بات لوگ اس طرح سنیں گے، جیسے کہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کے حصول کی طرف دوڑ لگا رہے ہیں۔ دنیا کے معاملے میں وہ ٹاکٹر کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر جلسہ اور جلوس کی دھوم ہے، لیکن اسلام کے اعتبار سے حقیقی معنوں میں کوئی قابل قدر چیز نظر نہیں آتی۔ لوگوں کے درمیان فارم کی دھوم ہے، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے دیکھیے، تو وہ ہر جگہ مفقود نظر آئے گی۔ اسی کو حدیث میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے: مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی ان کی مسجدیں آباد ہیں، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page