Al-Risala · August 2020 · page 47

اعراض

الرسالہ، اگست ۲۰۲۰، صفحہ ۴۷

سچے انسان کے لیے مخالف ماحول کی حیثیت رکھتی ہے۔

امن ہمیشہ ایک قربانی چاہتا ہے۔ وہ قربانی یہ کہ دوسری طرف سے بدامنی کے اسباب پیدا کیے جائیں تب بھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے امن کی حالت کو برقرار رکھا جائے۔ سچا انسان ہمیشہ اس قربانی کو دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ ہر نقصان اور زیادتی کو برداشت کرتا ہے تاکہ امن کی حالت نہ ٹوٹے، تاکہ امن کا ماحول مسلسل طور پر قائم رہے۔

سچا انسان اندر سے باہر تک ایک تعمیر پسند انسان ہوتا ہے۔ اس کی تعمیری سرگرمیاں صرف امن کی حالت میں جاری رہ سکتی ہیں۔ اس لیے وہ ہر قیمت دے کر امن کو برقرار رکھتا ہے تا کہ اس کی تعمیری سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں۔

سچا انسان فطرت کے باغ کا ایک پھول ہے۔ پھول گرم ہوا میں جھلس جاتا ہے اور ٹھنڈی ہوا میں اپنے دل کش وجود کو باقی رکھتا ہے۔ یہی حال سچے انسان کا ہے۔ امن سچے انسان کی لازمی ضرورت ہے، اور اس کی زندگی ہے۔ سچا انسان حرص کی حد تک امن کا خواہشمند ہوتا ہے تا کہ اس کا انٹلیکچول ڈیولپمنٹ ہو سکے، اور کسی رکاوٹ کے بغیر فطرت کی فضا میں ظاہر ہو کر اپنی بہاریں دکھا سکے۔ امن کائنات کا دین ہے۔ امن فطرت کا عالمگیر قانون ہے۔ خالق کائنات کو امن کی حالت پسند ہے، اس کو بے امنی کی حالت پسند نہیں۔ یہی واقعہ اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی مخلوق امن کو پسند کرے۔ وہ کسی حال میں امن کے خاتمہ کو برداشت نہ کر سکے۔

انسان اجتماعی زندگی میں کس طرح رہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہو۔ اپنے قول و عمل میں وہ کیا انداز اختیار کرے۔ جو لوگ زندگی کے معاملات میں اپنے مقرر دائرے کے اندر حرکت کر رہے ہیں، وہ سماج میں امن قائم کرنے والے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنے مقرر دائرے سے باہر آگئے، یہی وہ لوگ ہیں جو سماج میں ہر قسم کی خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود بھی تباہ ہوتے ہیں، اور سماج کی تباہی کا بھی سبب بنتے ہیں۔ سچا انسان وہ ہے، جو اپنے مقرر دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2020 All issues

Printed page