Al-Risala · September 2020 · page 34

تبلیغِ رسالت کا نظام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۴

میں اسلاموفوبیا (Islamophobia) پھیلا ہوا ہے، وغیرہ۔ مسلمانوں کی مظلومیت کا یہ افسانہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ یہ مسلمانوں کے بے خبر لوگوں کی اپنی سوچ ہے، نہ کہ زمانے کی حالت۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ جن باتوں کو مسلمانوں کے خلاف ظلم کا کیس بتاتا ہے، وہ صرف جوابی انتقام (retaliation) کا کیس ہے۔ مسلمان اپنی بے خبری کی بنا پر دوسروں کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں، مثلاً دوسروں کو شتم رسول کا ملزم بتا کر ان کو مارنا، یا دوسروں کو دشمن قرار دے کر ان پر سنگ باری (stone-pelting) کرنا۔ اس بنا پر مسلمانوں کو دوسروں کی طرف سے ناموافق حالات کا تجربہ ہوتا ہے، مسلمان اگر اپنی طرف سے مفروضہ ظلم کے خلاف ردِعمل کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیں تو اس کے بعد یقینی طور پر مسلمانوں کے خلاف تمام مخالفانہ کارروائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

تبلیغِ رسالت کا نظام

اللہ کے مقرر کردہ نظام کے مطابق، تبلیغِ رسالت کا نظام یہ ہے کہ اللہ کا پیغام پہلے فرشتوں کے ذریعہ رسولوں تک آتا ہے، اور پھر رسول اس پیغام کو اپنے زمانے کے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ یہ اصول قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: اَللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (22:75)۔ یعنی اللہ فرشتوں میں سے اپنا پیغام پہنچانے والا چنتا ہے، اور انسانوں میں سے بھی۔ بیشک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ اس آیت میں اصلاً پیغمبر کے انتخاب کی بات ہے، لیکن تبعاً محمدی کے افراد بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ سنت الہی کے مطابق، پیغمبر کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ لیکن دعوت کام ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ پیغمبر کی امتیوں کے ذریعہ بدستور جاری ہے۔ گویا دعوت الی اللہ کے پیغام کے چار مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں اللہ رب العالمین سے فرشتے تک۔ دوسرے مرحلے میں فرشتے سے پیغمبر تک، اور تیسرے مرحلے میں پیغمبر کے ذریعہ اپنے معاصر انسانوں تک، اور آخری مرحلے میں امت کے منتخب افراد کے ذریعے عہد بہ عہد تمام انسانوں تک۔ یہ نظام عین فطرت کے مطابق ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ذمے داری امت محمدی کے اہلِ علم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2020 All issues

Printed page