Al-Risala · October 2020 · page 13

عیب خوانی، قصیدہ خوانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳

عیب خوانی، قصیدہ خوانی

مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ موجودہ زمانے میں صرف دو کلچر کو جانتے ہیں، عیب خوانی یا قصیدہ خوانی۔ اپنے مفروضہ اکابر، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، ان کے بارے میں صرف قصیدہ خوانی، اور دوسروں کے بارے میں صرف عیب خوانی۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں میں یہ کلچر اتنا عام ہے کہ شاید ہی اس میں کوئی استثنا پایا جائے۔ تاہم نہ ان کی قصیدہ خوانی دلائل پر مبنی ہوتی ہے، اور نہ ان کی عیب خوانی دلائل کی زبان میں ہوتی ہے۔ وہ اپنوں کے بارے میں صرف تعریف کی زبان جانتے ہیں، اور دوسروں کے بارے میں صرف تنقیص کی زبان۔

یہ امت کے دور زوال کا ظاہرہ ہے ۔ امت جب اپنے زمانہ عروج میں ہو تو وہ ہر شخص کو میرٹ کے اعتبار سے جانچتی ہے ۔ وہ ہر ایک کے بارے میں میرٹ کی بنیاد پر غیر متعصبانہ رائے قائم کرتی ہے۔ خواہ وہ اپنا ہو یا اپنے دائرے سے باہر کوئی شخص۔ مگر جب امت دور زوال میں پہنچ جائے تو اس وقت اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ انسانوں کو اپنے اور غیر میں تقسیم کر دیتی ہے۔ اپنوں کے بارے میں اس کے پاس صرف اچھے الفاظ ہوتے ہیں ، اور غیروں کے بارے میں صرف برے الفاظ ۔ جب امت میں انسانوں کو میرٹ (merit) پر جانچنے کا رواج ہو، تو سمجھیے کہ امت زندہ ہے، اور جب امت کے لکھنے اور بولنے والے لوگ لفظی مدح اور لفظی ذم کی زبان بولنے لگیں تو سمجھیے کہ امت مردہ ہو چکی ہے ۔ جب امت پر یہ وقت آجائے تو کرنے کا صرف ایک کام باقی رہتا ہے ۔ وہ ہے مبنی برافراد اصلاح۔ امت جب زندہ ہو تو مبنی بر اجتماع انداز کار آمد ہو سکتا ہے، لیکن جب امت اپنے دور زوال میں پہنچ جائے تو اس وقت افراد کو تلاش کیجیے اور افراد کی اصلاح پر اپنے کام کو مرتکز کر دیجیے۔ اس کے سوا کوئی اور طریقہ ہر گز نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ امت کے دور زوال میں مبنی بر امت سیاسی یا سماجی انقلاب کے پروگرام بنائیں، وہ بلاشبہ فطرت کے قانون سے آخری حد تک نا واقف ہیں۔ ایسے مصلحین خود قابل اصلاح ہیں، وہ امت کے مصلح نہیں بن سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page