دجال کون
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۰
اس معنی میں کہ وہ شخص دلائل کے ذریعہ ایکسپوز (expose) کرکے بتائے گا کہ یہ شخص ڈیفنڈر نہیں ہے، بلکہ وہ امپوسٹر (imposter) ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ دجال ایک نہیں ہوگا، بلکہ بڑے دجال سے پہلے تیس دجال ظاہر ہوں گے۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ دجال ایک انفرادی کردار نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک تسلسل کا نقطہ انتہا (culmination) ہوگا۔ دجال سے پہلے مختلف قسم کے افراد اٹھیں گے، جو گویا بڑے دجال کے لیے ابتدائی زمین تیار کریں گے۔ مثلاً پہلے مناظر (debater) قسم کے افراد ابھریں گے، اس کے بعد ایسے افراد ابھریں گے جن کو ملت اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ڈیفنڈر کا درجہ دے گی۔ آخر میں بڑا دجال ظاہر ہوگا، جس کو لوگ اپنا نجات دہندہ (saviour) سمجھیں گے۔
بڑا دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ذاتی اعتبار سے غیر معمولی شخصیت کا مالک ہوگا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کے زمانے میں ایسے حالات اور وسائل پیدا ہوں گے، جو اس کو موقع دیں گے کہ وہ عملاً بڑے دجال کا درجہ حاصل کرلے۔ مثلاً یہ کہ اس کے زمانے میں عالمی کمیونی کیشن وجود میں آجائے گا۔ جیسا کہ ایک موقوف حدیث میں آیا ہے: یُنَادِی بِصَوْتٍ لَّهُ يُسْمَعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (کنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی دجال اپنی ایک ایسی آواز سے پکارے گا، جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عام انسان جیسا نہیں ہوگا، بلکہ وہ کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد امت کے زوال کی ایک حالت ہے۔ اپنے زوال کی بنا پر دجال کی باتیں امت کی نفسیات کو ایڈریس کریں گی۔ دجال کی مقبولیت اس بنا پر نہیں ہوگی کہ وہ جسمانی اعتبار سے کوئی غیر معمولی انسان ہوگا۔ بلکہ اس کا سبب امت کی زوال یافتہ نفسیات ہوگی۔ جو اپنے بگڑے ہوئے نفسیات کی بنا پر فرضی طور پر دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لے گی۔ آخری زمانے کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللهُ، اللهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 148)۔ یعنی قیامت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues