Al-Risala · October 2020 · page 23

اسلامی جہاد

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

اسلامی جہاد

جہاد کا لفظی مطلب کوشش (struggle) ہے۔ اس کوشش کا تعلق کسی سسٹم سے نہیں۔ یعنی جہاد کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ ایک سسٹم کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا سسٹم قائم کیا جائے۔ بلکہ جہاد کا نشانہ انسان کی سوچ (way of thinking) بدلنا ہے (الفرقان، 25:52)، یعنی دنیا رخی طرزِ فکر کو بدل کر اس کی جگہ خدا رخی طرزِ فکر انسان کے اندر پیدا کرنا (آل عمران، 3:79)۔ جہاد کا نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں ہے، بلکہ اسلامائزیشن آف فرد (Islamization of individual) ہے۔

زندگی کے نظام میں اصل اہمیت فرد کی ہے۔ جیسا فرد ویسا نظام۔ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچ کو بدلنے سے انسان بنتے ہیں، اور انسان کے بدلنے سے اجتماعی زندگی میں انقلاب آتا ہے۔ انقلاب کی ابتدا (beginning) فرد کی تبدیلی سے شروع ہوتی ہے، اور افراد کی تبدیلی سے سماج میں انقلاب آتا ہے۔

اصلاح کے نام پر سسٹم کے خلاف لڑائی کا مطلب ہے عملاً اتھارٹی (authority) کے خلاف لڑائی ہے، اور اتھارٹی کے خلاف لڑائی ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹو (counterproductive) ثابت ہوتی ہے۔ اتھارٹی کے خلاف لڑائی صرف مسائل میں اضافہ کرتی ہے، وہ کسی مسئلے کو حل کرنے والی نہیں۔ اس حقیقت کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اِنَّ اللَّهَ رَفِیْقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاہُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی اللہ نرم ہے، وہ نرمی کو پسند کرتا ہے، اور وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے، جو وہ سختی پر نہیں دیتا، اور نہ وہ اس کے سوا کسی اور چیز پر دیتا ہے۔ یہ اللہ کا مقرر کیا ہوا فطرت کا قانون (law of nature) ہے۔ اس دنیا میں کوئی انسان یا گروہ اس قانون کی پیروی کر کے سب کچھ پا سکتا ہے۔ لیکن جو فرد یا گروہ اس قانون کی خلاف ورزی کرے، اس کو اس دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page