Al-Risala · October 2020 · page 25

تعلیم ،قدیم اور جدید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۵

موجودہ زمانے میں کسی بھی شعبے میں ترقی کے لیے علم اور تعلیم کی اہمیت بے حد بنیادی ہو چکی ہے، سیکولر شعبوں میں بھی اور مذہبی شعبوں میں بھی۔ تعلیم کی اس اہمیت کا سبب موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے قدیم روایتی دور کو بالکل بدل دیا ہے۔ مثلاً قدیم زمانے میں سواری کا ذریعہ یہ تھا کہ جنگل میں خچر، گھوڑے اور اونٹ فطری طور پر بڑی تعداد میں موجود تھے۔ آدمی ان کو پکڑتا اور انھیں سواری اور بار برداری کے لیے استعمال کرتا۔ مگر آج سواری، مشینی سواریوں کا نام ہو گیا ہے، اور مشینی سواریاں علم کے بغیر نہ بنائی جاسکتی ہیں، اور نہ انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جدید دور میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں تمام علوم کو از سرِ نو مدوّن کیا گیا ہے۔ مثلاً قدیم زمانے میں سمجھا جاتا تھا کہ آسمان کے ستارے اتنے ہی بڑے ہیں جتنے بڑے کہ وہ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانے میں دوربینی مطالعے نے بتایا کہ آسمان کے ستارے بہت زیادہ بڑے ہیں، اور تعداد میں بھی وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ بہ ظاہر وہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح موجودہ زمانے میں بے شمار نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ان نئی معلومات کی روشنی میں دنیا کو جاننے کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ آج بے علم آدمی صرف ایک ناخواندہ انسان نہیں ہے، بلکہ وہ حقائق کی دنیا سے بے خبر انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔

موجودہ زمانے میں تعلیم کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی تعلیم کو وقت کی ضرورت کے مطابق بنانا۔ تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان کو وقت کی ضرورت سے مسلح کرنا۔ انسان کو اس قابل بنانا کہ وہ آج کے حالات کے مطابق، زندگی کی تعمیر کر سکے۔ زمانی تبدیلی سے باخبر ہونا زندگی کے عام معاملات کے لیے بھی ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ دین کو زمانے کی نسبت سے سمجھنے کے لیے بھی۔ اس حقیقت کو طویل حدیث میں صحابی رسول ابوذر الغفاری کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيراً بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی دانش مند (مومن) کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page