Al-Risala · October 2020 · page 31

فیس بک ایک اسٹڈی کلب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۱

فیس بک ایک اسٹڈی کلب

موجودہ زمانے میں ذرائع ابلاغ کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا الیکٹرانک کمیونی کیشن اور سماجی رابطہ کا طریقہ ہے، جس کے ذریعے انسان انٹرنیٹ پر ایک کمیونٹی بناتا ہے، تاکہ اس کے ذریعے وہ انفارمیشن، آئیڈیا اور پرسنل پیغام، وغیرہ ایک دوسرے کے ساتھ کیچڑ کس سکے۔ مثلاً فیس بک (Facebook )، ٹویٹر، وغیرہ۔ فیس بک مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ اس کو 2004ء میں مارک زکر برگ (پیدائش 1984) نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر امریکا میں لانچ کیا۔ ابتدا میں اس کا مقصد یونیورسٹی اور اسکول سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طالب علموں کو ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرنا تھا۔ 2006ء میں اسے عام لوگوں کے لیے اوپن (open) کیا گیا۔

فیس بک اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک اسٹڈی کلب ہے۔ فیس بک پر ایک انسان دوسرے انسان سے بطور دوست تعلق قائم کر سکتا ہے۔ تبادلہ خیال کر سکتا ہے، اور دوسرے لوگوں کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول کر سکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کی بنیاد پر گروپ میں شامل ہو سکتا ہے، جو افراد، اسکول، کام کی جگہ، دلچسپیاں اور دوسرے موضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ گویا دوسرے کی عقل اور تجربات کو اویل (avail) کرنے کا عمدہ پلیٹ فارم ہے۔ بلاشبہ وہ ایک ایسا ذریعہ ہے، جس سے بہت زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں فیس بک کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن تعمیری مقصد کے لیے نہیں، بلکہ زیادہ تر نتیجے کے اعتبار سے تخریبی مقصد کے لیے۔ فیس بک کا استعمال عملاً فری ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو زیادہ تر وہ لوگ استعمال کر رہے ہیں، جن کے اندر اعلیٰ ذوق نہیں ہوتا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، لوگ فیس بک کا استعمال عموماً شکایت اور بے بنیاد یا غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ان کے لیے عملاً غیر مفید بن گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page