Al-Risala · October 2020 · page 36

شکایت نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶

کر دیں گے۔ ان حالات میں آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا ، اور خاموشی کے ساتھ مدینہ آ کر وہاں رہائش اختیار کر لی۔ عام رواج کے مطابق کوئی شخص آسانی سے اپنا وطن نہیں چھوڑتا، بلکہ اس فیصلہ کو بدلوانے کی ہر کوشش شروع کر دیتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے قدیم مکہ کے سرداروں کے اس فیصلہ کو قبول کر لیا ، اور خاموشی سے مدینہ آ کر آباد ہو گئے۔ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ ایک نہایت حکیمانہ عمل تھا۔

ایسے حالات میں عام طور پر لوگ جوابی ذہن کے تحت سوچتے ہیں، اور ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام نے مسائل پر احتجاج کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے ملے ہوئے مواقع کو اویل کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کا منصوبہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا کامیاب ہوا کہ صرف دس سال کے اندر پہلے مکہ اور پھر سارا عرب آپ کے دائرے میں آگیا۔ یہ اسوۂ رسول ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تمام دنیا کے مسلمان پیغمبر اسلام کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے نفرت اور شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ نفسیات اتنا زیادہ عام ہے کہ مسلمانوں کے ہر طبقہ، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ دونوں کے درمیان یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ منفی ذہن (negative mind) بظاہر دوسروں کے خلاف ہے۔ مگر عملی نتیجہ کے اعتبار سے خود اپنے خلاف ہے۔ ایسا انسان نفرت اور جھنجھلاہٹ میں جئے گا۔ اس قسم کا مزاج انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت میں رکاوٹ ہے۔ میں نے 15 ستمبر 1997 میں ٹائمس آف انڈیا میں ایک مضمون لکھا تھا۔ جس کا موضوع تھا: Not By Grievances Alone: Indian Muslims' Failure تقریباً سو سال سے مسلمانوں کی جو سیاست رہی ہے، اس پر یہ ایک جامع تبصرہ ہے۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ نے امت کو پریکٹیکل وزڈم کا نمونہ دکھایا تھا۔ پریکٹیکل وزڈم کا مطلب ہے، حالات کے خلاف احتجاج مت کرو، بلکہ حالات کو پیچ کر کے موافق (favourable) بناؤ۔ لیکن امت اس نمونے پر چلی نہیں۔ اس لیے وہ مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page