Al-Risala · October 2020 · page 39

ضمیر، ایگو

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۹

ایک طرف جسولا و بہار کی یہ مسجد ہے جس کو توڑنے سے ہندو انکار کر دیتا ہے، دوسری طرف ایودھیا کی مسجد ہے جس کو ہندو اقدام کر کے توڑ ڈالتا ہے۔ یہ فرق کیوں ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ جسولا و بہار کا ہندو ایک نارمل ہندو تھا۔ جب کہ ایودھیا کا ہندو ایک غیر نارمل ہندو تھا، جس کی انا کو نا اہل مسلم لیڈروں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکا دیا تھا۔ گویا کہ جسولا و بہار کا ہندو اگر مسٹر ہندوتھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹرایگو تھا۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا۔ مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکا کر مسٹرایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہوگا، جو 6 دسمبر 1992 کوایودھیا میں پیش آیا۔

اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ دوسروں کی انا (ego) کو نہ بھڑکائیں ۔ جس انسان کا ایگو بھڑکایا نہ گیا ہو وہ اپنے ضمیر کے تابع ہوتا ہے، اور جس انسان کا ایگو بھڑکا دیا جائے، وہ اپنے نفس امارہ (یوسف، 12:53) کے تابع بن جاتا ہے، اور جو انسان اپنی نفس امارہ کے تابع بن جائے، وہ گویا ایک حیوان ہے، اگرچہ بہ ظاہر وہ ایک انسان دکھائی دیتا ہو ۔ مذکورہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120)۔ اس آیت کے مطابق، اس دنیا میں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہل ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو ان کے لیے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش یقینی طور پر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ البتہ اگر اہل ایمان بے صبری کی روش اختیار کریں تو سخت اندیشہ ہے کہ وہ فریق ثانی کی سازش کی زد میں آجائیں۔ مذکورہ دونوں مثالیں اس کا کھلا ہوا نمونہ ہیں۔ ایودھیا کی مسجد کے معاملہ میں جذباتی لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں نے غیر صابرانہ روش اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایودھیا کی مسجد کو کچھ مشتعل ہندوؤں نے توڑ دیا۔ اس کے برعکس، دہلی کی مسجد کے معاملہ میں کوئی جذباتی لیڈر اشتعال دلانے کے لیے موجود نہ تھا۔ یہاں فطرت نے مسلمانوں کی رہنمائی کی۔ چنانچہ انھوں نے صبر اور

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page