ضمیر، ایگو
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۱
اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انھوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ ایک صاحب جن کا نام مسٹر سونڈ تھا، آگے بڑھے اور کہا، وہ میں ہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریے اور مسٹر سونڈ کو لے کر گھر کے اندر آگئے۔ اُن کو کمرہ میں لا کر انھیں کرسی پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر سونڈ آپ لوگ کس سلسلہ میں یہاں آئے۔ مسٹر سونڈ نے غصہ میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کاغذ پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کاغذ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ میرے پاس جو کاغذات ہیں، ان کو لے لیجیے، اور ٹھیکہ دار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں، اُن کو بھی لے لیجیے، اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملہ میں میں آپ ہی کو جج بناتا ہوں۔ آپ کا غذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔
یہ سن کر مسٹر سونڈ بالکل نارمل ہو گئے ۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے تھے، اور ہنستے ہوئے باہر نکلے۔ انھوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کاغذات دیکھ فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سونڈ نے اس کے بعد گھر جا کر دونوں کے کاغذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انھوں نے صدقہ صد مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (انانیت) کو جگا دیتے۔ اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انھوں نے گن(gun) کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوامہ (القیامہ،75:2) جاگ اٹھا، نفس لوامہ یعنی ضمیر ۔ اور جب ضمیر جاگ اٹھے تو اس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues