برج مِحن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۵
وہی فطری ماڈل ہے، جس کو امریکن ماڈل ا جاسکتا ہے۔ امریکن ماڈل فری کمپटीशन پر بیس (base) کرتا ہے، یعنی ایسا ماحول پیدا کرنا، جس میں میرٹ کی بنیاد پر کسی کو ترقی حاصل ہو، نہ کہ فیور (favour) کی بنیاد پر۔ ترقی کے لیے اصل چیز کا میپیٹیشن ہے، نہ کہ فیور۔ امریکا میں ہر میدان میں یہ اصول ہے کہ کمپیٹ یا پیرش (compete or perish)، یعنی مقابلہ کرو، یا ختم ہو جاؤ۔ عام زبان میں اس کو کرو یا مرو (do or die) کہا جاتا ہے۔
فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کوئی گروہ فیور (favour) کے ذریعے ترقی نہیں کرسکتا۔ وہ صرف مقابلہ (competition) میں اپنے آپ کو اہل ثابت کرکے کامیاب ہوسکتا ہے۔ کمپٹیشن ہے، جو انسان کو مین (man) سے اٹھا کر سوپر مین (super-man) بناتی ہے۔ کیوں کہ خالق نے اس دنیا کو چیلنج ۔ رسپانس (challenge-response) کے اصول پر بنایا ہے۔ فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے ۔ اس کے سوا ہر دوسرا اصول انسان کا خود ساختہ اصول ہوگا، جو کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ یہی ماڈل نیچرل ماڈل ہے۔ کمپٹیشن کا ماڈل ماٹیویٹنگ ماڈل (motivating model) ہے۔ اس کے برعکس، نہرو نے رشین ماڈل کو اختیار کیا، جس کو وہ سوشلسٹ ماڈل کا نام دیتے تھے۔ مگر عملًا یہ ماڈل ڈی ماٹیویٹنگ ماڈل (demotivating model) ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ماڈل کو اختیار کریں، جو ماٹیویشن پر مبنی ہے، اور اس ماڈل کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، جو عملًا ڈی ماٹیویشن کا ماڈل بن جاتا ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہم انڈیا کے ڈیولپمنٹ کی ری پلاننگ کریں۔
انڈیا میں امریکا کے سابق سفیر گالبریتھ (John Kenneth Galbraith) نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈیا ایک فنکشننگ انار کی ہے ( India is a functioning anarchy) ۔ میں اس بیان کو کریٹیسزم کے طور پر نہیں لیتا، بلکہ چیلنج کے طور پر لیتا ہوں، اور یہ دعا کرتا ہوں کہ انڈیا ایک آئیڈیل ڈیموکریسی بنے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues