Al-Risala · October 2020 · page 50

برج مِحن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۵۰

اور مکالموں کے ذریعے حکمت و دانائی کی وسیع تر دنیا آباد کر دینا مولانا کا وصف خاص ہے۔ مولانا کی تمام ڈائریوں کو اصل میں ’’اوراقِ حکمت‘‘ کہنا چاہیے۔ ان میں دانائی کی وہ بڑی بڑی باتیں پائی جاتی ہیں، جن کو حاصل کرنے کے لیے ایک سچا متلاشی اپنی عمر گنوا دیتا ہے۔ بلاشبہ یہ ڈائریاں ہمارے اندر سلیقہ فکر پیدا کرتی ہیں۔ صحیح اور غلط کے فیصلہ کن تجزیے سے آشنا کراتی ہیں۔ یہ سنجیدگی پیدا کرتی ہیں۔ کلی طور پر ہماری فکری ساخت کو تبدیل کر دیتی ہیں ۔ سی، پی، ایس انٹرنیشنل کے تمام احباب کے لیے میں مولانا کی دیگر کتابوں کے ساتھ ساتھ ڈائریوں کے روزانہ مطالعے کو بھی ناگزیر سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اس کی نظیر کہیں اور دیکھی نہیں جاسکتی۔ (فیض قادری، کوئمبتور، انڈیا) • محترم مولانا وحید الدین خان صاحب کی ضخیم کتاب ’’اسفارِ ہند‘‘ کے مطالعے کے بعد تاثرات: (1) مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مولانا کے مکالمات اور واقعات پڑھ کر مولانا کی غیر معمولی ذہانت کا اندازہ ہوتا ہے۔ (2) مولانا کی شخصیت ایک قرآنی شخصیت کے طور پر نظر آتی ہے۔ آپ کا ذہن ہر وقت اور ہر سفر میں رب العزت کی قدرتوں کے مشاہدہ میں مصروف نظر آتا ہے۔ (3) مسلمانوں کے تعلق سے مولانا نے سب سے اہم بات کتاب کے صفحہ نمبر 368 میں بیان کی ہے، جو، میرے خیال میں، مولانا کی تعلیمات کے خلاصہ میں سے ہے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ ہمیشہ مسلم رہنماؤں کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ میں نے کہا میں مسلم رہنماؤں کا مخالف نہیں۔ البتہ کئی بار میں نے ان کی ترجیحات پر تنقید کی ہے۔ کیوں کہ میں دیکھتا ہوں کہ اکثر وہ نان اشو (non-issue) کو اشو (issue) بنا لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ عام مسلمانوں کے لیے مایوسی اور ہلاکت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد انھوں نے کئی بار ایسا کیا ہے کہ ایک اشو کو اٹھایا اور مسلمانوں کو یہ تاثر دے کر بھڑکا یا کہ یہ نہیں تو تمہارا وجود بھی نہیں۔ کبھی اردو، کبھی مسلم یونیورسٹی، کبھی پرسنل لاء، کبھی ملی تشخص، کبھی نفقہ مطلقہ، کبھی بابری مسجد، کبھی ثلاثیاتِ ثلاثہ۔ میرے نزدیک مسلمانوں کی قسمت اس قسم کے مسائل سے وابستہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو بابری مسجد کے ڈھائے جانے کے بعد مسلم ملت بھی ڈھ گئی ہوتی۔ اس قسم کی باتیں مسلمانوں کے ذہن کو بگاڑنے کے ہم معنی ہیں۔ ہمارے لیے صحیح ترجیح یہ ہے— تعلیم اور اقتصادیات اور اخلاق۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ سارا زور ان اصل مسائل پر دیں۔ مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی تدبیریں کریں۔ مسلمانوں کو اقتصادیات میں آگے لے آئیں۔ مسلمانوں کے اندر اعلیٰ کردار پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ سب جڑ والے کام ہیں۔ ‘‘ (4) یہ کتاب علم اور حکمت سے لبریز ہے، جس کے مطالعے سے وقت کا زیاں نہیں ہوسکتا۔ (5) ایک اور اہم بات یہ کہ محترم مولانا کا تعلق مسلمانوں کے علاوہ اعلیٰ اور متوسط طبقہ کے ہندوؤں کے ساتھ رہا لیکن آپ نے کبھی نفرت کی باتیں نہیں کیں، جس کی وجہ سے ایک اعلیٰ مسلم رہنما کے طور پر آپ شناخت کی برقرار ہے۔ میری نظر میں محترم مولانا کی علمی خدمات اعلیٰ درجے کا باقی رہنے والا کام ہے۔ (سید عمران علی کراچی، پاکستان)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page