Al-Risala · November 2020 · page 23

ماورائے انسان ذہانت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳

ماورائے انسان ذہانت

آج کل سائنسی حلقوں میں بالائے خلا ذہانت (extraterrestrial intelligence) کا بہت چرچا ہے۔ مختلف شعبوں میں ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زمین کے علاوہ خلا کے دوسرے حصوں میں بھی ذہین ہستیاں، غالباً انسان سے بھی زیادہ ذہن موجود ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے سائنس داں اس سنہری صبح کے منتظر ہیں جب کہ وہ خلائی ریڈیو کا پیغام (extraterrestrial radio message) وصول کر سکیں گے۔

بالائے خلا ذہانت سے سائنس دانوں کی مراد یہ ہوتی ہے کہ زمین کے علاوہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی ہماری جیسی مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ دو امریکی فکلیات دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں 10 بلین ستارے ایسے ہیں، جو نظام شمسی کی مانند سیاراتی نظام رکھتے ہیں۔ ان نظامات میں زندگی کا وجود اسی طرح ممکن ہے جس طرح موجودہ زمین پر۔ اگرچہ عملاً ابھی تک ایسا کوئی کرہ دریافت نہیں ہوا جہاں زمین جیسی زندگیاں پائی جاتی ہوں۔ Hypothetical extraterrestrial life that is capable of thinking, purposeful activity...more than 3,000 extrasolar planets have been detected...These efforts suggest that there could be many worlds on which life, and occasionally intelligent life, might arise. Searches for radio signals or optical flashes from other star systems that would indicate the presence of extraterrestrial intelligence have so far proved fruitless. (www.britannica.com/ science/extraterrestrial-intelligence#ref283898 [on 4th Apr 2020]) سائنسی دریافتوں کا قافلہ بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سائنس ماورائے انسان ”ذہانت“ تک پہنچ چکی ہے۔ اگر کسی دن وہ دریافت کرے کہ یہ ماورائے انسان ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنی زیادہ ممتاز ہے کہ اس کو انسان جیسی ذہین ہستی کہنے کے بجائے خدا کہنا زیادہ صحیح ہوگا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page