Al-Risala · November 2020 · page 43

ایک داعی کی وفات

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۴۳

ایک داعی کی وفات

جناب ریاض موسیٰ صاحب ملیباری (پیدائش 1942) انڈیا کے ایک مشہور داعی تھے۔

8 جون 2020 کو 78 سال کی عمر میں کیرلا میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بیٹے مولانا عمر ریاض عمری جامعی اپنے ایک تاثراتی مکتوب میں لکھتے ہیں:

آغازِ رمضان سے لے کر کل تک والد محترم گھر میں موجود لوگوں سے اور باہر سے ملاقات کے لیے آنے والوں سے ایک ہی سوال کرتے۔ کیا عمر آیا ہے؟ مگر بد نصیبی یہ ہے کہ انتقال سے پہلے باپ بیٹے کی ملاقات نہ ہوسکی۔ عید الفطر کے ایک یا دو دن بعد کی بات ہے کہ ہمارے بڑے بھائی شعیب ریالو کے ہمراہ والد محترم نے کالیکٹ میں اپنے دفن کی جگہ منتخب کی، اور کہا کہ مجھے یہیں دفن کیا جائے۔ پچھلے تین دنوں سے وہ مسلسل صاحب فراش تھے، کوئی بات چیت نہیں، کوئی تکلیف نہیں، البتہ کھانا اور پینا کم ہو گیا تھا، پھر کل یعنی 7 جون کو پالاکاڈ (Palakkad) سے تیرور(Tirur) کا سفر ذریعہ کار بڑے ہی آرام و اطمینان سے کیا۔ قریب رات تین بجے میرے موبائل کی گھنٹی بجی، دیکھتا ہوں تو مدینہ سے برادرم شیخ نکوا پرویز عمری مدنی لائن پر تھے۔ انھوں نے کہا کہ کیا یہ (شیخ ریاض موسیٰ صاحب کے وفات کی خبر صحیح ہے؟ یہ سن کر میری نیند اڑ گئی، رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ شیخ نے تسلی دی، اور کہا کہ ایک مرتبہ تحقیق کر لیں۔ چنانچہ میں نے شعیب بھائی کو کال کیا تو سلام کے بعد ان سے یہی سننے کو ملا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ !

یہ سنتے ہی ایسا محسوس ہوا کہ زمین پیروں تلے کھسک گئی۔ ایسا لگا کہ چند لمحے کے لیے کائنات ساکت ہو گئی ۔ کتنے واقعات، اور کارناموں سے بھر پور یادوں کا ایک دور ختم ہو گیا، اور وہ اپنے بعد والوں کے لیے انہیں نشان راہ بنا کر چلے گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے تدفین میں شرکت کا موقع بھی نصیب نہیں ہوا۔ اس وقت ہم کڈپہ (آندھرا) میں ہیں، اور وہ کیرلا میں۔ بس آپ تمام احباب سے دعا کی گزارش کرتا ہوں۔ اللہ والد محترم کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے، اور انہیں اعلیٰ علیّین میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین (مولانا عمر ریاض عمری جامعی، آندھرا پردیش)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page