Al-Risala · May 2020 · page 25

غفلت کا سبب

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۲۵

غفلت کا سبب

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ موت سے غافل رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک شخص کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، پھر بھی انھیں موت کی یاد نہیں آتی۔ اس غفلت کا سبب یہ ہے کہ لوگ اللہ رب العالمین سے غافل ہیں، اس لیے وہ موت سے بھی غافل بنے ہوئے ہیں۔ اگر لوگوں کے اندر موت کی یاد کو زندہ کرنا ہے تو اس سے پہلے ان کے اندر اللہ پر یقین کو زندہ کرنا ہوگا۔ اللہ پر یقین کے بغیر لوگوں کے اندر موت کا زندہ یقین پیدا نہیں ہو سکتا۔ آج کل حالت یہ ہے کہ آپ کوئی کتاب پڑھیں، یا کسی مجلس میں شرکت کریں، ہر جگہ آپ کو دوسری دوسری باتیں تو سننے کو ملیں گی، لیکن اللہ پر زندہ یقین، نہ میر مجلس کے اندر ہوگا اور نہ حاضرین مجلس کے اندر۔ لوگ اللہ کے بارے میں صرف یہ جانتے ہیں کہ زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جائے۔ مگر اس قسم کا قول ہر گز کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ آپ کے اندر اللہ کا زندہ یقین ہو۔ اس کے بعد ہی آپ کے اندر موت کا زندہ یقین پایا جا سکتا ہے۔

آپ لوگوں سے ملیے، اور لوگوں کے پاس بیٹھ کر یا ان کی باتیں سن کر اندازہ کیجیے۔ آپ کو بہت جلد یہ حقیقت در یافت ہوگی کہ اللہ پر وہ یقین لوگوں کے دلوں میں موجود نہیں، جو قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں۔ اسی طرح آیتہ الکرسی کو زبانی یاد کرنے اور اس کو جاننے والے بہت ہیں، لیکن اس کے اس لرزہ خیز الفاظ کو زندہ حقیقت کے طور پر دریافت کرنے والا شاید کوئی نہیں کہ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے :

His throne extends over the heavens and the earth. جب لوگوں کے اندر اللہ رب العالمین پر زندہ یقین نہ ہو تو ان کے اندر موت اور آخرت پر زندہ یقین کہاں سے پیدا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page