Al-Risala · May 2020 · page 36

پوائنٹ آف نو رٹرن

الرسالہ، مئی ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶

پوائنٹ آف نو رٹرن

ہر آدمی ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی پیدائش سے موت کی طرف سفر کر رہا ہے۔ طبعی عمر پورا کرنے کے بعد ہر آدمی ایک ایسی حد پر پہنچے گا، جہاں وہ محسوس کرے گا کہ اب اس کے لیے پوائنٹ آف نورِٹرن (point of no return) آگیا ہے۔ جہاں وہ صرف آگے جا سکتا ہے، پیچھے کی طرف لوٹنا، اب اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان پر جب یہ لمحہ آئے گا تو اس کا عجیب حال ہوگا۔ وہ سوچے گا، مگر وہ سوچ نہیں پائے گا۔ وہ چلنے کی کوشش کرے گا، مگر وہ چل نہیں پائے گا۔ وہ پکارے گا، مگر کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ وہ لوٹنا چاہے گا، مگر لوٹنے کے لیے کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ وہ اپنی زندگی کی ری پلاننگ کرنا چاہے گا، مگر اس کو بتانے والا بتائے گا کہ اب تمھارے لیے اپنی زندگی کی ری پلاننگ کا وقت ختم ہو چکا۔ یہ مایوسی کا وہ لمحہ ہوگا، جو اپنے آپ میں ایک ناقابل برداشت عذاب ہوگا۔ پوائنٹ آف نورِٹرن کا یہ لمحہ انسان کے لیے زندگی کے تمام کٹھن تجربات سے کٹھن تجربہ ہوگا۔

اگر آپ کو یہ احساس ہو جائے کہ آپ پر کسی بھی وقت وہ لمحہ آ سکتا ہے، جو آپ کے لیے ہمیشہ کے لیے پوائنٹ آف نور ٹرن کے ہم معنی ہوگا تو آپ آخری حد تک الرٹ ہو جائیں گے۔ آپ کو اگر یہ عادت ہے کہ آپ آدھا کام کر کے چھوڑ دیتے ہیں تو آپ چاہیں گے کہ آپ اپنی اس عادت کو ایک لمحے میں ترک کر دیں۔ اگر آپ آخرت فراموشی کی زندگی گزار رہے ہیں تو آپ فوراً آخرت کو یاد کرنے والے بن جائیں گے۔ اگر آپ کا یہ حال ہے کہ آپ اپنی غلطیوں کو بھولے ہوئے ہیں، اور آپ صرف دوسروں کی غلطیاں بتانے کے ماہر ہیں تو آپ فوراً اس عادت کو چھوڑ دیں۔ آخرت میں ہر ایک کا معاملہ اس بنیاد پر ہوگا کہ اس نے اپنی خداداد صلاحیت (God-given quality) کو صحیح طور پر استعمال کیا یا نہیں۔ جو انسان اس زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ وہ اس دنیا میں اپنے رول کو سمجھے، اور اللہ کی ہدایت کے مطابق، اپنے اس رول (کردار) کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2020 All issues

Printed page