ایمان کی علامت
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۴
ایمان کی علامت
محمد بن کعب القرظی (وفات 108ھ) مشہور تابعی ہیں۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: اِذَا اَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِ خَيْراً زَهَدَهُ فِي الدُّنْيَا، وَفَقَّهَهُ فِي الدِّينِ، وَبَصَّرَهُ عُيُوْبَهُ، وَمَنْ اُوْتِيَهُنَّ أُوْتِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ (الزهد لوکيع بن الجراح، اثر نمبر 2)۔ یعنی جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کو دنیا میں زہد عطا کرتا ہے، اور اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے، اور اس کے عیوب اس کو دکھادیتا ہے۔ جس کو یہ چیزیں دی گئیں، اس کو دنیا اور آخرت کا خیر دے دیا گیا۔ اس قول میں مومن کی چند صفات بتائی گئی ہیں۔ زہد، فہم دین، خود احتسابی۔ یہ صفات الگ الگ صفات نہیں ہیں، یہ ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ ان کے مجموعے کو ایک لفظ میں معرفت کہا جاسکتا ہے۔ جب انسان کو اللہ رب العالمین کی دریافت ہوتی ہے، تو وہ ایک عارف باللہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ معرفت اس کی پوری شخصیت کی کلید بن جاتی ہے۔
مذکورہ تابعی کے قول میں زہد کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے وہی ہے، جس کو قرآن میں عدم رکون (ہود، 11:113) کہا گیا ہے، یعنی حالات کے اثر سے جھکاؤ کا شکار نہ ہونا۔ یہاں مومن سے مراد وہ مومن ہے، جو اللہ کے مشن میں اپنے آپ کو لگادیتا ہے۔ ہر مشن میں انسان کو ایک نازک قسم کا اجتماعی رول ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس اجتماعی رول میں ادنی درجے کا ڈسٹریکشن (distraction) مومن کو اپنے رول سے دور کر دیتا ہے۔ وہ امکان کے قریب پہنچ کر بھی امکان سے دور ہو جاتا ہے۔ آدمی کو امکان کے قریب پہنچانے والا اللہ رب العالمین ہے۔ لیکن اس امکان کو پہچاننا، ہمیشہ انسان کا اپنا کام ہوتا ہے۔ انسان اگر معرفت کی پہچان میں ناکام ہو جائے، تو کوئی فرشتہ اس کی مدد کے لیے آنے والا نہیں۔ اس معاملے میں فرشتہ انسان کو ضمیر کے ذریعے سے اشارہ کرتا ہے۔ لیکن نجات کے معنی میں خود کو بچانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ ضروری ہے کہ انسان اس معاملے میں بہت زیادہ الرٹ رہے، تا کہ وہ اپنے آپ کو تباہی سے بچاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues