Al-Risala · February 2020 · page 7

حدیث، عارفانہ کلام

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۷

حدیث، عارفانہ کلام

حدیث رسول کو پڑھتے ہوئے مجھ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے، ایک ایسی کیفیت جو قرآن سے کسی قدر مختلف ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کا سبب آج میری سمجھ میں آیا۔ یہ اُس فرق کی بنا پر ہے جو قرآن اور حدیث کے درمیان پایا جاتا ہے۔ قرآن دراصل حقیقت کا بیان (statement of fact) ہے۔ اِس کے مقابلے میں حدیث گویا ایک عارف کامل کا کلام معرفت ہے، جس نے خود اس معرفت کا تجربہ کیا ہو۔ قرآن کا مطالعہ آدمی کے اندر رب العالمین کی عظمت پیدا کرتا ہے، اور حدیث کے مطالعے سے آدمی کو معرفت رب کا ذائقہ ملتا ہے۔

مثال کے طور پر جب آپ قرآن میں پڑھتے ہیں: أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِی (20:14) ۔ یعنی میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ اس میں آپ کو ایک متعین حکم ملتا ہے۔ آپ کے اندر یہ شعور جاگتا ہے کہ آپ اپنے رب کے اس حکم کو عملاً اختیار کریں۔ آپ اپنے رب کے اطاعت گزار بن جائیں۔ اس کے برعکس، جب آپ حدیث رسول میں یہ پڑھتے ہیں: رَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللَّهِ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 730)۔ یعنی حکمت کا سراللہ کا خوف ہے۔ آپ کا ذہن اس میں سوچنے لگتا ہے۔ اس قول میں جو معنوی گہرائی ہے۔ آپ اس کی سوچ میں غرق ہو جاتے ہیں۔ آپ کے لیے یہ قول صرف قول نہیں رہتا، بلکہ وہ اسرار معانی کا خزانہ بن جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسا کس طرح ہوتا ہے کہ اللہ کا ڈر آپ کے لیے حکمت کا خزانہ بن جائے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خوف خدا کا احساس آپ کے ذہن کے بند دروازے کو کھول دیتا ہے۔ المناوی نے اس حدیث کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: أَيْ أَصْلُهَا وأسہا الْخَوْفُ مِنْهُ لِأَنَّهَا تَمْنَعُ النَّفْسَ عَنِ المنهيات و الشبهات وَلَا يحمل عَلَى الْعَمَلِ بِهَا أَيْ الْحِكْمَةَ إِلَّا الْخَوْفُ مِنْهُ (التيسير بشرح الجامع الصغیر، جلد 2، صفحہ 23)۔ یعنی حکمت کی اصل اور جڑ اللہ کا خوف ہے، کیوں کہ وہ نفس کو منہیات اور شبہات سے روکتا ہے، اور حکمت کے مطابق عمل پر صرف اللہ کا خوف ابھارتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page