Al-Risala · February 2020 · page 27

انتقام نہیں

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۷

یک طرفہ طور پر نیکی کا معاملہ کرنا۔ غور کیجیے تو ہر مذہب میں اس طرح کے سلوک کا طریقہ موجود ہے۔ مثلاً رام چندر کا درجہ ہندوؤں میں بہت بڈا ہے۔ رام چندر کا قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ کوئی ان پر غصہ ہو گیا۔ اس نے اپنے پاؤں سے رام چندر کے سینے پر مار دیا۔ رام اس کے جواب میں غصہ نہیں ہوئے، انھوں نے مذکورہ آدمی کو اپنے گلے سے لگا لیا، اور کہا: میرے لوکھنڈ سینے سے تمھارے کومل پاؤں کو چوٹ تو نہیں لگی۔ اس آدمی نے پوچھا کہ میں نے آپ کے ساتھ ایک غلط کام کیا، اور آپ میرے ساتھ اتنا اچھا معاملہ کیوں کر رہے ہیں۔ رام نے کہا تمھیں تو اس قابل ہو کہ تم کو گلے سے لگایا جائے، کیوں کہ تمھارے اندر ایک برائی ہے۔ برائی کی اصلاح برائی سے نہیں ہوتی، بلکہ برائی کی اصلاح اچھائی سے ہوتی ہے۔ یہی تعلیم مسیحیت کی بھی ہے۔ مثلاً نئے عہد نامہ کی تعلیم ہے: Love your enemies, do good to those who hate you, bless those who curse you, pray for those who mistreat you. (Luke 6:27-28)

اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے دوسرا شخص آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے، آپ پھر بھی اس کے ساتھ محبت کا معاملہ کیجیے۔ یہی تعلیم اسلام کی بھی ہے۔ مثلاً قرآن میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے: ﴿ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ﴾ یعنی جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا شخص تمھارے ساتھ غصہ دلانے والا معاملہ کرے، تب بھی غصہ نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ یک طرفہ طور پر عفو و درگزر کا معاملہ کرو۔

تعلیم اس لیے ہے کہ جب آدمی رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ یک طرفہ طور پر دوسروں کے ساتھ اچھائی کا معاملہ کرے، تو وہ ڈبل ریوارڈ کا مستحق بن جاتا ہے۔ ایک یہ کہ اس نے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کیا، دوسرا یہ کہ انتقام کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس یک طرفہ سلوک میں حکمت یہ ہے کہ ایک غلط معاملہ کرنے کے بعد چین ری ایکشن نہیں بنتا، بلکہ بات وہیں کی وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ گویا یہ نیپنگ ان دی بڑ (nipping in the bud) کی عملی صورت ہے۔ یعنی شروع میں ہی ختم کر دینا، پوری طرح پھولنے پھلنے نہ دینا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page