Al-Risala · February 2020 · page 29

لو پر وفائل، ہائی پروفائل

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۲۹

قریش حتی نبغتها في بلادها (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 397)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر کی) تیاری کا حکم دیا، اور اپنی اہلیہ کو کہا کہ وہ اس سفر کی تیاری کا کام کرے۔ پس ابوبکر اپنی بیٹی عائشہ کے پاس آئے ، اس وقت وہ رسول اللہ کے سفر کی بعض تیاری کا کام کر رہی تھیں ۔ تو کہا: بیٹی، کیا رسول اللہ نے تیاری کا حکم دیا ہے۔ عائشہ نے کہا: ہاں ، سامان سفر تیار کرنے کا۔ ابوبکر نے پوچھا، تمھارے خیال سے کہاں کا ارادہ ہے۔ عائشہ نے کہا، مجھے، اللہ کی قسم، نہیں معلوم۔ پھر رسول اللہ نے لوگوں کو خبر دیا کہ وہ مکہ کی طرف کوچ کرنے والے ہیں، اور ان کو تیاری کا حکم دیا۔ اس وقت آپ نے یہ دعا کی: اللہ، تو قریش کی آنکھوں اور خبروں کو روک دے۔ یہاں تک کہ تو ان کے شہر میں پہنچادے۔

اسی طرح غزوہ خیبر کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ محدث البخاری کے مطابق، ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں جارہے تھے، (راستے میں) ہم یہ کرنے لگے کہ جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا بلندی پر پہنچ جاتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے قریب آئے تو آپ نے کہا: اے لوگو، اپنے آپ پر رحم کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے ہو، بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے (يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 6610۔

ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے کام کرنے کا طریقہ کیا تھا۔ انبیاء ہمیشہ لو پروفائل (low profile) میں کام کرنا پسند کرتے تھے۔ ہائی پروفائل میں کام کرنا، نبیوں کا مطلوب طریقہ نہ تھا۔ لو پروفائل کا مطلب ہے، غیر نمایاں انداز میں کام کرنا۔ ایسے انداز میں کام کرنا، جب کہ آپ کا حریف آپ کے کام کو اپنے لیے چیلنج نہ سمجھے۔ فریق ثانی آپ کے کام میں اپنے لیے خطرہ محسوس نہ کرے۔ فریق ثانی آپ کے معاملے کو اپنے لیے غیر اہم سمجھ کر نظرانداز کردے :

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page