Al-Risala · February 2020 · page 31

اسلام اور سائنس

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۱

اسلام اور سائنس

اس مختصر مقالہ میں مجھے اس سوال کی تحقیق کرنی ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں پیچھے کیوں ہو گئے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان سائنس کی تعلیم میں اس لیے پیچھے ہیں کہ ان کا مذہب سائنس کی تعلیم کا مخالف ہے، یا کم از کم اس کو پسند نہیں کرتا۔ مگر یہ بات حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن میں کثیر تعداد میں ایسی آیتیں موجود ہیں، جن میں مختلف طریقوں سے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی چیزوں پر غور کرو۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ اسلام کے ماننے والے زمین و آسمان کی چیزوں کا مطالعہ نہ کریں، جس کا دوسرا نام سائنس ہے۔ اسلام کے نزدیک کائنات کے مطالعہ کا سب سے پہلا فائدہ معرفت ہے، یعنی مخلوق کے ذریعے خالق کا مشاہدہ کرنا۔ تاہم جب لوگ کائنات کو قابلِ غور سمجھ کر اسے دیکھتے ہیں، تو اس سے وہ چیز بھی برآمد ہوتی ہے جس کو سائنس کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی اپنی تاریخ بھی اس کی تردید کرتی ہے۔ کیوں کہ تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ ابتدائی دور کے مسلمانوں نے سائنس کے شعبوں میں زبردست ترقی کی۔ حتی کہ جس زمانہ میں یورپ کی قوموں نے سائنس کی راہ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا تھا، اس وقت مسلمان سائنس کی راہ میں شاندار ترقیاں حاصل کر چکے تھے۔ برٹرینڈ رسل نے اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ 600 سے 1000 ء تک کے دور کو ہم تاریک دور کہتے ہیں۔ یہ مغربی یورپ کو غیر واقعی اہمیت دینا ہے۔ اسی زمانہ میں چین میں ٹنگ کی حکومت تھی، جو کہ چینی شاعری کا اہم ترین دور ہے، اور کئی دوسرے پہلوؤں سے بہت اہم دور ہے۔ اسی زمانہ میں ہندوستان سے لے اسپین تک اسلام کی شاندار تہذیب چھائی ہوئی تھی۔ اس زمانہ میں جو چیز مسیحیت کے لیے کھوئی ہوئی تھی، وہ تہذیب کے لیے کھوئی ہوئی نہ تھی بلکہ اس کے برعکس تھی:

Our use of the phrase "the Dark Ages" to cover the period from 600 to 1000 marks our undue concentration on Western Europe. In China, this period includes the time of the Tang

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page