زمانہ سے آگے
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۳
طب عربی کی سب سے بڑی خدمت کیمسٹری اور دواؤں کے علم اور ان کی تیاری کے بارے میں تھی۔ اکثر دوائیں جو آج استعمال ہوتی ہیں، ان کی اصل عرب ہی ہے۔ اسی طرح تقطیر اور تصعید جیسے عمل بھی۔ اس زمانہ کی کیمسٹری اکثر بیشتر پارس پتھر کی تلاش کا نام تھی، جس کے متعلق یہ گمان کر لیا گیا تھا کہ وہ تمام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس زمانہ کے فلکیات داں محض نجومی ہوتے تھے، اور کیمسٹری کے علماء صرف کیمیا گری کرتے تھے۔ اس لیے یہ تعجب خیز بات ہے کہ ان سب کے باوجود مسلم عہد کے اطباء نے طب کی ترقی میں قیمتی اضافے کیے ۔ اسلام سائنس کا خالق یہ باتیں وہ ہیں، جن کا عام طور پر مورخین نے اعتراف کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے بھی آگے ہے۔ جدید سائنس خود اسلام کی پیدا کردہ ہے۔ اسلام بلاشبہ سائنس کے لیے نہیں آیا۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سائنسی انقلاب خود اسلامی انقلاب کی ضمنی پیداوار ہے۔ اسلام اور سائنس کے اس تعلق کو بر یفالٹ نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ہماری سائنس پر عربوں کا قرضہ صرف یہ نہیں ہے کہ انھوں نے حیران کن نظریات دیے۔ سائنس اس سے زیادہ عربوں کی مقروض ہے ۔ یہ خود اپنے وجود کے لیے ان کی احسان مند ہے :
"The debt of our science to that of the Arabs does not consist in startling discoveries or revolutionary theories, science owes a great deal more to Arab culture, it owes its existence. The Astronomy and Mathematics of the Greeks were a foreign importation never thoroughly acclimatized in Greek culture. The Greeks systematized, generalized and theorized, but the patient ways of investigation, the accumulation of positive knowledge, the minute method of science, detailed and prolonged observation and experimental inquiry were altogether alien to the Greek temperament. Only in Hellenistic Alexandria was any approach to scientific work conducted in the ancient classical world. What we call science arose in Europe as a result of new spirit of enquiry, of new methods of
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues