Its advent changed the course of human history.
الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸
کی جگہ مشینی صنعت ایجاد کی۔ اس نے دستی ہتھیاروں کی جگہ دور مار ہتھیار بنا لیے۔ وہ بڑی طاقت سے آگے بڑھا، اور ابتداءً بحری طاقت، اور اس کے بعد فضائی طاقت پر قابو حاصل کر لیا۔ اس طرح مغرب بالآخر ایسی طاقت بن گیا، جس کا مقابلہ مسلمان اپنے موجودہ ساز و سامان کے ساتھ نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ مغرب جدید قوتوں سے مسلح ہو کر دوبارہ جب مسلم دنیا کی طرف بڑھا تو مسلمان قومیں ان کو روکنے میں ناکام رہیں۔ مغربی قوموں نے مختصر عرصہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا پر براہِ راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کر لیا۔
صلیبی جنگوں کے بعد مسلمان اپنی سیاسی فتح کے جوش میں سائنس سے دور ہو گئے تھے۔ موجودہ زمانہ میں یہی بات ایک اور شکل میں پیش آئی۔ مغربی قوموں کے مقابلہ میں سیاسی شکست نے موجودہ مسلمانوں کے اندر منفی رد عمل پیدا کیا۔ مغربی قوموں نے ان سے ان کا سیاسی فخر (political pride) چھینا تھا۔ چنانچہ وہ مغربی قوموں سے سخت متنفر ہو کر رہ گئے۔ اپنی ردعمل کی نفسیات کی وجہ سے انھوں نے نہ صرف مغربی قوموں کو برا سمجھا، بلکہ مغربی قوموں کی زبان، اور مغربی قوموں کے ذریعہ آنے والے علوم کو بھی وہ نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایک صدی کی پوری مدت اسی حال میں گزر گئی۔ مسلمان مغربی قوموں سے نفرت کرتے رہے، یا ان سے ایسی لڑائیاں لڑتے رہے، جو مسلمانوں کی کمتریاری کی وجہ سے صرف شکست پر ختم ہونے والی تھی۔ دوسری طرف دنیا کی دوسری قو میں مغربی زبان اور مغربی علم کو سیکھ کر تیزی سے آگے بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ دونوں کے درمیان وہ بعید فاصلہ پیدا ہو گیا، جس کی ایک مثال ہم کو ہندوستان میں نظر آتی ہے۔ مسٹر کلدیپ نائر (2018-1923) نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان تعلیم میں دوسوسال پیچھے ہیں۔ اگر اس کو گھٹایا جائے تب بھی یہ فاصلہ ایک سوسال کے بقدر ماننا ہو گا۔
مغربی قومیں جن علوم کو لے کر آگے بڑھیں، وہ سادہ معنوں میں محض علوم نہ تھے، بلکہ وہ دور جدید میں ہر قسم کی ترقی کی بنیاد تھے ۔ چنانچہ جن قوموں نے ان علوم کو سیکھا، وہ دنیوی اعتبار سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues