Al-Risala · February 2020 · page 42

بنیادی غفلت

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۴۲

علوم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا۔ انھوں نے مسلمانوں سے نفرت کی، مگر مسلمانوں کے علوم کو انھوں نے آگے بڑھ کر لیا۔ نیز اپنی کوششوں سے اس میں اتنے اضافے کیے کہ بعد کی صدیوں میں وہ ان علوم کے امام بن گئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ وہ دوبارہ تاریخ کو اپنے حق میں بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہی صورت حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی۔ مغربی قو میں ان کے لیے فاتح کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس لیے مغربی قوموں سے بیزاری ان کے لیے ایک فطری بات تھی۔ مگر یہاں مسلمان اس ہوش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغرب اور مغربی علوم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں۔ مغربی قو میں جن علوم کو لے کر آگے بڑھی تھیں، وہ ان کے قومی علوم نہ تھے، بلکہ وہ کا ئناتٰی علوم تھے۔ ان کی حیثیت قوت و طاقت کی تھی۔ دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اس راز کو بروقت جان لیتے، تو وہ مغربی علوم کو مغرب سے الگ کرکے دیکھتے۔ مغربی علوم کو وہ اپنے لیے طاقت سمجھ کر حاصل کرتے۔ وہ ان کو خود اپنی چیز سمجھتے، نہ کہ غیر کی چیز۔ مگر یہاں دورِ جدید کے مسلم رہنما اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے۔ انھوں نے بیک وقت مغرب سے بھی نفرت کی، اور مغربی علوم سے بھی۔ یہی وہ غلطی ہے، جس نے دورِ جدید میں مسلمانوں کو سائنس میں پیچھے کر دیا۔ مسلم رہنماؤں نے ایک لمحہ کی غلطی کی تھی، مگر اس کا نتیجہ مسلم قوم کو صدیوں کی شکل میں بھگتنا پڑا: یک لحظہ غافل گشتم وصد سالہ راہم دور شد زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت شعور کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، مسلمانوں نے جب صلیبی جنگوں میں مغربی اقوام پر فتح حاصل کی، تو وہ فتح کے جوش میں مبتلا ہوگئے ۔ اس جوش نے انھیں سائنس کی تحقیق سے غافل کر دیا۔ اس کے بعد موجودہ زمانہ میں یہی واقعہ ایک اور شکل میں پیش آیا۔ مسلمان مغربی قوموں کے مقابلہ میں مفتوح ہوئے، تو ان کے اندر مغربی اقوام کے خلاف نفرت جاگ اٹھی۔ وہ نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہو کر مغربی سائنس کی طرف سے بے رغبت ہو گئے۔ مسلمان اپنی بے شعوری کے نتیجہ میں فاتح کی حیثیت سے بھی نقصان میں رہے، اور مفتوح کی حیثیت سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page