Al-Risala · February 2020 · page 46

ذاتی معاملات

الرسالہ، فروری ۲۰۲۰، صفحہ ۴۶

ذاتی معاملات

ذاتی معاملہ ہر آدمی کا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ اس کو کوئی دوسرا شخص نہ سمجھ سکتا ہے، اور نہ اس کے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکتا ہے۔ اپنے ذاتی معاملے میں آدمی کو اس بات کا پورا اختیار ہے کہ وہ اپنے صوابدید کے مطابق فیصلہ کرے ۔ یہ طریقہ اصولی طور پر غلط ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے ذاتی معاملے میں بہت زیادہ دخیل ہونے کی کوشش کرے ، اور اس کے بارے میں اپنی رائے دینے میں شدت کا طریقہ اختیار کرے۔

فطرت کے اصول کے مطابق، کوئی آدمی اپنے ذاتی معاملے میں کسی دوسرے آدمی کی رائے کا پابند نہیں ہے۔ میری رائے اپنے لیے ہو سکتی ہے، کسی دوسرے کے لیے نہیں۔ ہر آدمی اپنے ذاتی معاملے میں جو کچھ کرتا ہے، وہ اس کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ اصولی طور پر اس معاملے میں دوسروں کے لیے صرف یہ حق ہے کہ وہ آپ کے لیے دعا کرے۔ آپ کے لیے خیر خواہی کا طالب بنے۔ اس معاملے میں اگر کسی کو رائے دینے کا حق ہے، تو وہ آدمی کی اپنی فیملی ہے۔

مثلاً بچوں کی تعلیم، شادی بیاہ کا معاملہ، بزنس کا انتخاب، وغیرہ۔ زیادہ تر ذاتی دائرے کی چیزیں ہیں۔ ان معاملات میں فیملی کی رائے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ غیر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی حد پر قائم رہے۔ کسی آدمی کے ذاتی معاملے میں زیادہ دخل نہ دے۔ اس حقیقت کو ایک عربی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: صاحب البیت ادری بما فیہ (گھر والا زیادہ جانتا ہے کہ گھر میں کیا ہے)۔ ضرورت سے زیادہ رائے دینا ایک غیر دانش مندانہ بات ہے۔ بہت سے معاملات جہاں لوگ رائے دینے لگتے ہیں، وہاں ان کو دعا کرنا چاہیے۔ دعا اگر سچی خیر خواہی کے ساتھ ہو، تو امید ہے کہ وہ ان شاء اللہ ، قبول ہوگی، اور آدمی کے لیے فائدہ کا سبب بنے گی۔ دعا خیر خواہی کا اعلی طریقہ ہے۔ دعا بلا شبہ مشورے کا ایک اعلیٰ بدل ہے۔ دعا گو یا اپنی رائے کو اللہ کے ذریعے انسان تک پہنچانا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2020 All issues

Printed page