Al-Risala · March 2021 · page 7

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۷

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۷

کے ریسٹورنٹ میں جب میں کھانے کے لیے داخل ہوا تو وہ بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا: اس وقت آپ کا حال دیکھ کر ہم نے یہی سمجھا تھا کہ آپ پیے ہوئے ہیں، اور مدہوشی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ میں نے اس آدمی کو بتایا کہ یہ وجہ نہ تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ میں نے کئی وقت سے کچھ نہیں کھایا تھا، اس لیے مجھے چکر آگیا۔ اسی آدمی نے مجھے بتایا کہ ریسٹورنٹ میں آپ بھری ہوئی کرسیوں پر بیٹھ رہے تھے۔

میری زندگی میں اس طرح کے بہت سے عجیب عجیب واقعات ہیں۔ سلف میڈ میں (self made man) کا لفظ عام طور پر صرف معاشی تعمیر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ لیکن اس لفظ کا کامل مصداق اگر کوئی شخص ہو سکتا ہے تو یقیناً وہ میں ہوں۔ میں پورے معنوں میں ایک سلف میڈ مین ہوں۔ مجھ کو نہ خاندانی روایات نے بننایا ہے، اور نہ سماجی حالات نے۔ میں نے ہر اعتبار سے اپنے آپ کو خود بنایا ہے۔ تاریخ میں اس قسم کا کوئی دوسرا انسان اگر پایا جاتا ہو تو وہ میرے لیے ایک دریافت ہوگی۔ 5 جون 1985 بظاہر سائنس خدا کے بارہ میں غیر جانب دار ہے۔ مگر یہ غیر جانب داری سراسر مصنوعی ہے۔ سائنسی مطالعہ واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام ایسے محکم انداز میں بنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں۔ سر جیمز جینز نے 1932 میں کہا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا ہے:

In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist said: “The universe appears to have been designed by a pure mathematician”. (Encyclopedia Britannica, 1984, 15/531)

سر جیمز جینز نے جو بات کہی تھی، دوسرے متعدد سائنس دانوں نے بھی مختلف الفاظ میں اس کا اقرار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا ریاضیاتی اصولوں پر بنا اور اس کا ریاضیاتی اصولوں پر حرکت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا ذہن کام کر رہا ہے، جو ریاضیاتی قوانین کا شعور رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues

Printed page