15 اگست 1985
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۱، صفحہ ۴۶
یہ ایک نہایت حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی ایک شخص تشدد کرتا ہے تو لازماً اس کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے اپنے حریف کے مقابلہ میں لڑائی جیت لی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر تشدد کیا گیا ہے، وہ کوئی پتھر نہیں ہے، بلکہ انسان ہے، اور انسان ہمیشہ رد عمل (reaction) ظاہر کرتا ہے۔ زیر تشدد آدمی تشدد کے جواب میں وہ سب کچھ کرتا ہے، جو اس کے بس میں ہو۔ اگر وہ طاقت ور ہے تو وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں براہ راست وار کرتا ہے، اور اگر وہ طاقت ور نہیں ہے تب بھی کمینہ پن کا راستہ ہر ایک کے لیے کھلا ہوا ہے۔ طاقت ور آدمی جو کچھ کھلے طور پر کر سکتا ہے وہی کمزور آدمی بھی کر سکتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے چھپے طور پر کرتا ہے۔
ایسی حالت میں تشدد صرف اس شخص کے لیے مفید ہے، جس کے پاس پھوس کا چھپر بھی نہ ہو، جس میں اس کا حریف رات کے وقت آکر آگ لگا سکے۔ اس کی جیب میں چند روپے بھی نہ ہوں، جس کو کوئی اس سے چھین سکے۔ زندگی کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر کرے۔ حتیٰ کہ فریق ثانی شرارت کرے تب بھی وہ اس کو نظر انداز کرے۔ تشدد کے نقصانات سے وہی شخص بچ سکتا ہے، جو اعراض کی حکمت کو جانتا ہو۔
15 اگست 1985
برٹش ہسٹورین جی ایم ٹریولیان (1876-1962, George Macaulay Trevelyan) نے کہا کہ تعلیم نے ایسے بہت سے لوگ پیدا کر دیے ہیں جو پڑھ سکیں ۔ مگر تعلیم ایسے لوگ پیدا نہ کرسکی، جو یہ فرق کر سکیں کہ کیا چیز پڑھنے کے قابل ہے، اور کیا چیز پڑھنے کے قابل نہیں : Education has produced a vast population able to read, but unable to distinguish what is worth reading. تعلیم ایک وسیلہ ہے، جو آدمی کو پڑھنے کے قابل بناتا ہے۔ مگر آدمی کیا چیز پڑھے، اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔ اگر اس کے مزاج میں سنجیدگی ہے تو وہ سنجیدہ لٹریچر پڑھے گا اور اگر اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2021 All issues