Al-Risala · April 2021 · page 11

کوئی مصیبت ، مصیبت نہیں

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱

خیر کثیر و۔

قرآن میں زوجین کے تعلق سے ایک نصیحت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (19: 4)۔ یعنی تم ان کے ساتھ اچھی طرح رہو، اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔

یہ رہنمائی صرف زوجین کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ زندگی کا اصول ہے۔ کیسے ایسا ہوتا ہے کہ ایک واقعہ جو انسان کے لیے ناپسندیدہ واقعہ ہو، وہ اس کے لیے خیر کثیر کا ذریعہ بن جائے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے، جو مسائل کو اگنور کر کے مواقع کو اوویل کرنا جانتے ہوں۔ آیت میں یہ بات ازدواجی پارٹنر کے بارے میں کہی گئی ہے۔ یعنی لائف پارٹنر کے ناپسندیدہ پہلو کو اگنور کر کے اس کے پسندیدہ پہلو کو تاویل کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آدمی کی شادی ہو، اور اس کو ناپسندیدہ یا مس میچ لائف پارٹنر مل جائے تو وہ اس کے لیے خیر کثیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

وہ اس طرح کہ خواہ میچنگ پارٹنر ہوں یا مس میچ پارٹنر دونوں اللہ کی تخلیق ہیں۔ اگر آدمی کو مس میچ لائف پارٹنر مل جائے، اور وہ اس کو رضائے الہی سمجھ کر دل سے قبول کرلے تو اللہ اس کے لیے ایک ایسے خیر کثیر کا فیصلہ کر دیتا ہے، جو کسی میچنگ پارٹنر سے بھی زیادہ اہم ہو۔ خدا کے پاس میچنگ پارٹنر سے بہت زیادہ عظیم خیر کی صورتیں ہیں۔ مفسر القرطبی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ابو محمد بن ابی زید دین، علم اور معرفت میں بڑا مرتبہ رکھتے تھے۔ لیکن ان کی بیوی بڑی بد سلوک تھی، اور بد زبان بھی۔ شیخ صاحب سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دی، اپنی معرفت دی، اور میرے اوپر دوسری دنیوی نعمتیں مکمل کی ہیں۔ ہو سکتا شاید میرے کسی گناہ کی سزا اس صورت میں دی گئی ہو، مجھے اندیشہ ہے کہ میں اس کو جدا کروں تو مجھ پر اس سے سخت سزا اور عقوبت روات میں نازل ہوئی اور مدنیہ میں ہے، اور بعض روشوں پر نازل ہو (تفسیر القرطبی، جلد 5، صفحه 98) ۔

ے،)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2021 All issues

Printed page