الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴
ہر آدمی کے اندر ایک انسان ہے، اور اسی کے ساتھ اس کے اندر ایک شیطان بھی چھپا ہوا ہے۔ اکثر لوگ اپنی نادانی سے انسان کو کھودیتے ہیں۔ یہ صرف شیطان ہے جو ان کے حصہ میں آتا ہے۔ رمضان کے بارے میں مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے: وَصُفّدَتِ الشَّيَاطِينُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1079)۔ یعنی اور اس ماہ میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔
حدیث کے الفاظ کو اس کے ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رمضان کے مہینے میں تمام دنیا کے شیاطین علی الاطلاق (absolute sense) قید کر دیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات بدابتہ (prima facie) خلاف واقعہ ہے۔ کیوں کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں وہ تمام گناہ بدستور ہوتے رہتے ہیں جو سال کے دوسرے مہینوں میں ہوتے ہیں۔ اس لیے حدیث کا مفہوم قید کے ساتھ لینا ہوگا۔ یعنی یہ کہ سنسیریٹی (sincerity) کے ساتھ روزہ رکھنے والوں کے لیے اللہ کی مدد آتی ہے، اور شیاطین کا ان پر غلبہ نہیں ہو پاتا ہے۔ یعنی جو لوگ سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھتے ہوں ان کے اندر رمضان میں گناہوں کی تحریک نہیں ہوتی یا بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی حالت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ (15:42)۔ یعنی بیشک جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ سوا ان کے جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کریں۔ حدیث ایک دعوتی اور تربیتی کلام ہے، اور دعوتی اور تربیتی کلام میں یہی انداز زیادہ مؤثر ہے۔ منطقی اسلوب دعوت و تربیت کے لیے مؤثر نہیں۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ”جو روزہ دار پورے شرائط و آداب کے ساتھ روزہ رکھے اس کے شیاطین قید کر دئے جائیں گے“ تو کلام کی تاثیر نسبتاً کم ہو جاتی۔