Al-Risala · May 2021 · page 6

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۶

الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۶

مہنگائی میں یہ کس کا کارنامہ ہے، اگر فضا ہوتی، رو فضاسے نہ پہلا لاؤ ے کرم نجو کہ مہینوں میں سے کوئی مہینہ اگر افضل ہو تو یہ افضلیت سب سے پہلے رمضان کے مہینہ کو حاصل ہوگی۔ کیوں کہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن رمضان کے مہینہ میں اترا، اور جس مہینہ میں قرآن اترا اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ ایسی حالت میں کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ کوئی مہینہ رمضان سے بھی زیادہ افضل ہوگا۔

ایک حدیثِ رسول ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: "وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ" (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 647)۔ یعنی ایک شخص اس وقت تک برابر نماز میں رہتا ہے جب تک وہ (مسجد میں) نماز کا منتظر رہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف مسجد میں موجود رہنا ہی ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نفسیاتِ نماز کے ساتھ نماز کے انتظار میں ہو اس کا یہ وقت بھی نماز میں شمار ہو جاتا ہے اور اس کو وہی ثواب ملتا ہے جو نماز پڑھنے والے کو ملتا ہے۔ اس طرح کی حدیثوں کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کسی پتھر کے مجسمہ یا روبوٹ کے بارے میں نہیں ہیں، بلکہ زندہ انسان کے بارے میں ہیں۔ انسان سوچتا ہے۔ وہ صاحبِ نفسیات مخلوق ہے۔ ایسا انسان جب نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو تو اس کا بیٹھنا سادہ قسم کا بیٹھنا نہیں ہوتا۔ وہ اگر سچا نمازی ہے تو نماز کے انتظار کے وقت بھی نماز کے بارے میں سوچے گا۔ اس وقت بھی اس کا دل خدا میں لگا رہے گا۔ یہی وہ کیفیت ہے، جو اس کے انتظارِ نماز کے لمحات کو بھی ادائیگی نماز کے لمحات کوشش کرتا ہے ۔ یہی دنیا کی واحد کتاب ہے جو تمام کائنات کو اپنی آغوش میں شامل کر دیتی ہے۔

عکسِ نو روایت کے ایک ایسے عالمِگیر پُرسکون اور تزقّی آشنا سر چشمہ کی یاد 23 کرتے کا لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَهُوَ يَحْزَنُ وَيَفْرَحُ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ يَجْعَلُ مُصِيبَتَهُ صَبْرًا، وَغَنِيمَتَهُ شُكْرًا (تفسير القرطبی، جلد 17، صفحه 258)۔ یعنی کوئی ایسا شخص نہیں جو غم گین نہ ہوتا ہو اور خوش نہ ہوتا | ۔ مگر مومن اپنی مصیبت کو صبر بنا لیتا ہے، اور اپنے فائدہ کو شکر بنا لیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2021 All issues

Printed page