امام باقر: مرد کا
الرسالہ، مئی ۲۰۲۱، صفحہ ۴۴
نہیں کر سکتا کہ سوال حدیث کے بارے میں کیا جائے اور وہ جواب قرآن کے بار ے میں دینے لگے۔
اس قسم کے جھوٹے قصے کہانیوں نے ہمارے بیشتر لٹریچر کو غیر سائنٹفک بنا دیا ہے۔ ان سے عقیدت مندی کا مزاج رکھنے والا آدمی تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر علمی ذوق رکھنے والے آدمی کے یوٹ نہیں ہوتی ، اس میں دیسی مواد ہوتا ہے ، جو اس لیے اس کی افادیت بہت کم ہے۔
خارجہ کا ہوتا تھا ۔ خلاف یہ کسی قوم یا قبیلہ کے ساتھ خاص نہیں شخصیت خانه ۲ خوارج کا یہ کہنا تھا کہ خلافت کسی قوم یا قبیلے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر وہ شخص خلیفہ بن سکتا ہے جس کے اندر خلافت کی شرطیں پائی جائیں۔ بظاہر یہ ایک صحیح بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صحابی رسول علی ابن ابی طالب کے الفاظ میں کَلِمَةُ حَقٍّ أُرِیدَ بِهَا بَاطِلُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (1066 کی مثال ہے، یعنی ایک حق بات جس سے باطل مطلوب ہے۔
اصل یہ ہے کہ عرب دو بڑے قبائلی گروہوں میں منقسم تھے__ مُضَر اور ربیعہ۔ قریش کا تعلق مضر سے تھا، اور خوارج زیادہ تر قبیلہ ربیعہ سے تعلق رکھتے تھے۔ قبیلہ مضر اور قبیلہ ربیعہ میں جاہلیت کے زمانے سے عداوت چلی آرہی تھی۔ صحابہ کرام نے جب عرب کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے قریش میں سے خلیفہ کا انتخاب کیا تو قبیلہ ربیعہ کے لوگ بگڑ گئے۔ کیوں کہ قریش کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا۔ ایسی حالت میں خوارج جو اصول پیش کرتے تھے، اس کا مقصد اپنے قبیلے کے حق میں خلافت کا استحقاق ثابت کرنا تھا ، نہ کہ اہل تر شخص کے حق میں اس کا استحقاق ثابت کرنا ۔ عہد وسطی میں شہنشاہ اور پوپ کے درمیان جو جھگڑا ہو رہا تھا ، اس میں باریاری بجھتی اس رتی تھی عہدِ وسطیٰ میں شہنشاہ اور پوپ کے درمیان جو جھگڑے ہوئے، ان میں ساری بحث اس پر تھی کہ حضرت عیسیٰ (یا خدا) نے دنیا کی حکومت پوپ کے سپرد کی ہے یا شہنشاہ کے، اور اگراِن دونوں میں اختلاف ہو تو قوم کو کس کے حکم پر چلنا چاہیے۔
آج یہ بحث بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آج حکومت و سیاست کے معاملات میں نہ ”مسیح“ کا دخل ہے اور نہ ”پوپ“ کا۔ آج ان معاملات میں ساری حیثیت عوام کی مانی جاتی ہے یا نہ اس کا نام ہے اور نہ پتا ہے۔ اس اس معاملے میں یہ اس میں کہاں جاں ہے یا