Al-Risala · June 2021 · page 54

دعا کی قبولیت

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۵۴

دعا کی قبولیت

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

قرآن کی اس آیت میں ایک بندہ مومن کے لیے عظیم تسکین (solace) کا سامان موجود ہے۔ اس میں ایک مومن بندے کے لیے دعا کا ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ بندہ اللہ رب العالمین سے ایک چیز کا طالب ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا اس کے معاملہ کو سنبھالنے والا بن جائے۔ اس آیت کو لے کر ایک بندہ مومن کہہ سکتا ہے۔ خدایا، میں آخری حد تک ایک عاجز انسان ہوں، لیکن قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ تیری رحمت بہت وسیع ہے۔ خدایا، تو نے میرے گناہوں کے بارے میں یہ فرما دیا ہے کہ تو خود اس کو معاف فرمائے گا۔ اب میں جو دعا کر رہا ہوں تو کیا تو میری دعا کو ریجیکٹ کر دے گا۔ یعنی جب تو بندوں کے معاملے میں اتنا فیاض ہے کہ بغیر مانگے ہوئے تو اعلان کر رہا ہے کہ تو ان کے گناہوں کو معاف فرمائے گا تو جب میں خود سے سوال کر رہا ہوں تو کیا تو اس کو پورا نہیں فرمائے گا۔

سب سے بڑی دعاوہ ہے جو حقیقی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کے حوالے سے کی جائے۔ جس انسان کو شعوری طور پر اس حقیقت کی دریافت ہو جائے، وہ پکار اٹھے گا کہ خدایا، میں کامل طور پر عاجز انسان ہوں، لیکن تو نے اپنی رحمت سے بلا استحقاق مجھے یک طرفہ طور پر تمام چیزیں عطا کی ہے، موت کے بعد بھی دوبارہ میں اپنے آپ کو کامل طور پر عجز کی حالت میں پاؤں گا۔ خدایا، جس طرح تو نے موت سے پہلے کی زندگی میں میرے عجز کی کامل بھر پائی کی، اسی طرح تو موت کے بعد کی زندگی میں بھی میرے عجز کا مکمل بدل عطا فرما، میرے تمام گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page