هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۷
اے کیا۔ وہ بچپن سے ملکی سیاست میں دلچسپی لیتی رہی ہیں۔ 1947ء کے بعد فرقہ پرستی کے خلاف کام کرنے والوں میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ ماہنامہ شبستان (جون 1972) کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا:
1947ء کے ہنگامہ میں ہم دہلی کے مسلم محلوں میں کام کر رہے تھے۔ دلی کانگریس پر ہمارا قبضہ تھا۔ گاندھی جی آئے انھوں نے ہم سے پوچھا، کتنے مسلمان مارے گئے۔ ہم نے بتایا کہ دس ہزار سے زیادہ مارے گئے ہیں۔ وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ تم نے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ ہم نے کہا ہم تو برابر کوشش کر رہے ہیں، مگر حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ انھوں نے غصے میں پوچھا ان دس ہزار میں تمھارے کانگریس ورکر کتنے مارے گئے۔ ہم نے جواب دیا، ایک بھی نہیں۔ اس پر وہ بولے : پھر میں کیسے مان لوں کہ تم نے بچانے کی کوشش کی ہوگی۔ “ سہد را جوشی کی رپورٹ کے بعد گاندھی جی کا ایک جواب یہ ہوسکتا تھا " کوشش اپنا کام ہے، کامیابی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ تم اپنی کوشش جاری رکھو۔ “ مگر یہ جواب نہیں۔ جو لوگ اپنے ماتحتوں کو اس قسم کے جواب دیں وہ زندگی کی حقیقتوں سے بالکل ناواقف ہیں۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔ جامع مسجد دہلی میں ایک دن دو جلسے ہوئے۔ دونوں جلسے جامع مسجد کے قریبی پارک میں تھے۔ دونوں کی تاریخ ایک تھی۔ صرف اتنا فرق تھا کہ ایک جلسہ مغرب سے پہلے ہوا، اور دوسرا جلسہ مغرب کے بعد۔
ایک جلسے کو جماعت اسلامی اور مجلس مشاورت وغیرہ کی جانب سے کیا گیا تھا، اور دوسرے جلسے کو جمعیۃ علماء اور قوم پرست مسلمانوں نے۔ ایک حلقے کے لوگ ایک جلسے میں گئے اور دوسرے حلقے کے لوگ دوسرے جلسے میں۔
میں اتفاق سے دونوں جلسوں میں شریک ہوا۔ دونوں جلسوں کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues