هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹
کے لیے ہم نے دو کروڑ روپیہ کا جو ابتدائی فنڈ مختص کیا ہے، وہ رقم اور حکومت کی طرف سے اس کے بعد ملنے والی تمام گرانٹ سب پر آپ کو اپنی صوابدید کے مطابق مکمل تصرف کا اختیار ہوگا۔ اور آپ کو قانوناً آڈٹ وغیرہ کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔ ‘‘ (ایک شخص ایک کارواں، نئی دہلی، 1981ء، صفحہ 100)
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ پاکستان میں ان کی اختیار کردہ سیاست کا قدرتی نتیجہ تھا۔ جو لوگ سیاسی اپوزیشن میں انوالو (involve) ہوں، ان کو مذکورہ قسم کے تعمیری کام کام نہیں لگتے ہیں۔ حالاں کہ اصل کام یہی ہے کہ انسان اپنی کوششوں کو سیاسی ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائے، اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح سماجی تعمیر کے کام میں لگا دے۔
ڈاک سے ایک لفافہ موصول ہوا۔ اس میں ایک دینی ادارے کے ہفت روزہ میگزین کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی تھی۔ یہ مضمون ادارے کے بانی کے بارے میں ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: چراغ عالم اسلام تھے اس عنوان کے نیچے جو مضمون ہے وہ گویا نثر میں شاعری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مضمون نگار نے نعت کے تمام شاندار الفاظ بانی ادارے کی قصیدہ خوانی میں صرف کر دیے ہیں۔ اس مضمون کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ میری وفات کے بعد جو لوگ میری تعریف میں اس قسم کے قصیدے لکھیں گے، وہ میرے جھوٹے ماننے والے ہوں گے۔ میرے حقیقی ماننے والے وہ ہیں، جو میرے مشن کو لے کر آگے بڑھیں، جو میرے اس دنیا سے جانے کے بعد اس دینی جدوجہد کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو جائیں۔
میرا کام اللہ کے سچے دین کا اعلان و اظہار ہے۔ میری ساری دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کی جائے۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت کو آج کے انسانوں تک پہنچایا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues