مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۳
سوال و جواب سوال آپ کو اپنا "جاوید" کا تعارف میں کچھ الفاظ لیٹسٹ رومان کے بارے میں بھی غور اور صہ کرے آپ کو لفظ "جہاد" کی تعریف میں کچھ لیف لیٹس روانہ کیے جارہے یہیں۔ غور اور صبر کے ساتھ پڑھ کر اس کا جواب دیں۔ ان کو پڑھ کر ہی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو خدائی کتاب کہنے والا جواب شیوا گور صاحب نے اپنے اس خط کے ساتھ ہمیں انگریزی میں 41 صفحہ کی فوٹو کاپیاں بھیجی اس کا جواب یہاں تحریر کیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے خط میں قرآن کی 24 آیتیں نقل کی ہیں جن میں اس طرح کی باتیں ہیں ۔ ان سے لڑو، ان سے دوستی نہ کرو، ان کے ساتھ نرمی سے نہ پیش آؤ۔ ان کے خلاف جہاد کرو، وغیرہ۔
واضح رہے کہ قرآن کی یہ آیتیں جو آپ نے نقل کی ہیں وہ غیر مسلم کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو نہیں بتاتیں۔ ۔ بلکہ وہ جنگ کرنے والوں کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو بتاتی ہیں ، اور جنگ کے معاملہ میں یہی ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے ۔ ان آیتوں کی بنیاد پر آپ نے اسلام کے بارے میں جو شدید رائے قائم کی ہے، وہ سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ نے قرآن کی مذکورہ آیتوں کو عمومی معنوں میں لے لیا ہے ۔ حالانکہ یہ آیتیں ہنگامی حالات کے لیے ہیں ۔ یہ اس وقت کے لیے ہیں جب کہ مسلمانوں اور دوسری قوم کے درمیان حالت جنگ (state of war) قائم ہو گئی ہو، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ حالت جنگ میں ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نارمل حالات میں لوگوں کے ساتھ مسلمان کے سلوک کا تعلق ہے وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے جو قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ ان دوسری آیتوں میں مسلمانوں کو تمام انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے (سورہ البلد، 90:17)۔ اسی طرح حکم ہے کہ درگزر (tolerance) کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues