Al-Risala · January 2021 · page 35

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۵

سرسید روم کے ذمہ دار نے بتایا کہ اس خطبے کی اصل کی ہمیں بھی تلاش تھی۔ ہم نے یونیورسٹی کے ہر شعبے میں اس کو ڈھونڈ اگرمعلوم ہوا کہ وہ یونیورسٹی کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ مجھے یونی ورسٹی کی اس بے انتظامی پر بے حد افسوس ہوا۔ تاہم اس سے میں نے ایک سبق لیا۔ وہ یہ کہ جب میں اپنے اردو مضامین میں انگریزی یا کسی دوسری زبان کا کوئی اقتباس نقل کروں تو اس کے ترجمے کے ساتھ اس کا ضروری حصہ بھی اصل زبان میں نقل کردوں۔ چنانچہ الرسالہ کے اکثر مضامین میں میں نے وہی انداز اختیار کیا ہے۔

ایک عرب پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی جو عربی کتابیں یا مضامین میں نے پڑھے ہیں، ان میں الاسلام - تحدی (اردو ورژن مذہب اور جدید چیلنج) فائق ہے، باقی سب اس کے تحت ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے مشن کا اصل اظہار الاسلام - تحدی میں نہیں ہوا ہے، بلکہ دوسری کتابوں میں ہوا ہے۔ الاسلام - تحدی صرف اس مشن کی اعتباریت (credibility) ثابت کرنے کے لیے ہے، وہ خود مشن کا تعارف نہیں۔

میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے لاٹھی کو سانپ بنا دیا۔ اب کوئی شخص کہے کہ حضرت موسیٰ نے نبوت ملنے کے بعد جو کچھ پیش کیا، ان میں عصا کا معجزہ سب پر فائق ہے، تو رات اس کے تحت ہے، تو یہ صحیح نہیں۔ کیوں کہ آپ کی دعوت میں تو رات اصل ہے اور عصا کا معجزہ ایک ضمنی (relative) حیثیت رکھتا ہے۔

الاسلام - تحدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہمارے مشن کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے ہے، نہ کہ خود یہی ہمارا مشن ہے۔ مولانا عبدالباری ندوی (1976-1886) اس طرح کی چیزوں کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ ”رکانہ کی کشتی“ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکانہ ( بن عبد یزید) پہلوان نے چیلنج کیا اور آپ نے کشتی لڑکر اس کو ہرا دیا (الاصابة فی تمييز الصحابة لابن حجر العسقلانی، جلد 2، صفحہ 413)۔ مگر رکانہ کی کشتی بظاہر ایک نمایاں واقعہ ہونے کے باوجود آپ کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page