Al-Risala · October 2021 · page 4

قیامت کا تول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۴

قیامت کا تول

قرآن میں قیامت کے دن کی ایک حقیقت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ. فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ. وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ. فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ (101:6-9)۔ یعنی پھر جس شخص کے اعمال کا وزن بھاری ہوگا ۔ وہ دل پسند آرام میں ہوگا۔ اور جس شخص کے اعمال کا وزن ہلکا ہوگا ۔ تو اس کا ٹھکانا گڑھا ہے۔

میزان کا مطلب تول (scale) ہے ۔ یہ ایک تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ ایک کیفیاتی حقیقت (qualitative reality) کو کمیاتی زبان (quantitative term) میں بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی معنوی بات کو مادی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ آخرت میں اعمال کا درجہ ان کی معنوی اہمیت کے اعتبار سے ہوگا ، معروف قسم کے ترازو اور باٹ سے نہیں۔ کسی آدمی نے جو عمل کیا ہو ، اس کا ایک ظاہری پہلو ہوتا ہے ، مگر آخرت میں اعمال کا درجہ ان کے معنوی پہلو کے اعتبار سے ہوگا۔ مثلاً ایک شخص نے درہم و دینار دیا ، اور دوسرے شخص نے نیت کے اعتبار سے بڑا کام کیا۔ آخرت میں اس عمل کا درجہ زیادہ ہوگا ، جو نیت کے اعتبار سے بڑا عمل ہو۔

کسی آدمی کا عمل نیت کے اعتبار سے کس درجے کا عمل ہے ، یہ صرف اللہ کو معلوم ہے۔ دنیا میں اس کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک شخص بہت پیسہ دیتا ہے مگر دکھاوے کے لیے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا شخص کم دیتا ہے ، مگر اس کی نیت خالص ہے۔ دنیا میں اعمال کا وزن ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے ، آخرت میں اعمال کا وزن ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ قرآن میں جس تول کا ذکر ہے ، وہ آخرت کا تول ہے ، جو کہ کیفیت کے اعتبار سے ہوگا ، نہ کمیت کے اعتبار سے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کیفیت کے اعتبار سے کسی چیز کی قدر و قیمت متعین کرنا ، دنیا میں ممکن نہیں ، یہ صرف آخرت کے میزان میں ممکن ہوگا۔ دنیا میں ہم اس معاملے کو اجمالی طور پر جان سکتے ہیں ، نہ کہ متعین صورت میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page